1 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الرِّقَاقِ بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6492 حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا، هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ المُوبِقَاتِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «يَعْنِي بِذَلِكَ المُهْلِكَاتِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

(باب: چھوٹے اور حقیر گناہوں سے بھی بچتے رہنا)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6492. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ تم ایسے ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں جبکہ ہم لوگ نبی ﷺ کے عہد مبارک میں انہیں ہلاک کر دینے والے شمار کرتے تھے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: حدیث میں الموبقات کا لفظ ہلاکت کے معنیٰ میں ہے۔...


2 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا م...

حکم: صحیح

2618.02 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ يَعْنِي ابْنَ أَسْمَاءَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ هِيَ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ...

صحیح مسلم:

کتاب: حسن سلوک،صلہ رحمی اور ادب

(باب: بلی اور اس جیسے غیر موذی جانوروں کو ایذا دینے...)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2618.02. جویریہ بن اسماء نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے بلی کو باندھے رکھا حتی کہ وہ مر گئی تو وہ اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گئی، کیونکہ جب اس نے بلی کو باندھا تو نہ اس کو کھلایا، نہ پلایا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ (خود ہی) زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔‘‘...


4 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا م...

حکم: صحیح

2618.04 و حَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَوْثَقَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ...

صحیح مسلم:

کتاب: حسن سلوک،صلہ رحمی اور ادب

(باب: بلی اور اس جیسے غیر موذی جانوروں کو ایذا دینے...)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2618.04. عبیداللہ بن عمر نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک عورت کو بلی کے سبب عذاب دیا کیا جسے اس نے باندھا رکھا تھا، اس نے اسے کھانے کو دیا نہ پینے کو دیا، نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے شکار سے کھا لیتی۔‘‘...


6 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَابُ تَحْرِيمِ تَعْذِيبِ الْهِرَّةِ وَنَحْوِهَا م...

حکم: صحیح

2619 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ مِنْ جَرَّاءِ هِرَّةٍ لَهَا أَوْ هِرٍّ رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تُرَمْرِمُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا...

صحیح مسلم:

کتاب: حسن سلوک،صلہ رحمی اور ادب

(باب: بلی اور اس جیسے غیر موذی جانوروں کو ایذا دینے...)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2619. معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے روایت کی، کہا: یہ احادیث ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیں، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک عورت اپنی بلی یا بلے کی وجہ سے دوزخ میں چلی گئی جس کو اس نے باندھ کر رکھا تھا، نہ خود اس کو کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے چھوٹے موٹے جانور چنا کھا لیتی، یہاں تک کہ وہ کمزور ہو کر مر گئی۔‘‘...


7 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابٌ فِي كَنْسِ الْمَسْجِدِ

حکم: ضعیف

461 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْخَزَّازُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنْ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيَهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا...

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

(باب: مسجد میں جھاڑو دینے کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

461. سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”مجھے میری امت کے ثواب (اور نیکیاں) دکھائی گئیں، حتی کہ ایک تنکا بھی جو کوئی مسجد سے نکالتا ہے۔ (یہ بھی نیکیوں میں شامل تھا) اور مجھے میری امت کے گناہ دکھائے گئے تو میں نے دیکھا کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی گناہ نہیں کہ ایک آدمی کو قرآن مجید کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو اور وہ اسے بھلا دے۔“...


8 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ دِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ عَلَيْ...

حکم: صحیح

2159 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلنَّاسِ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ مِنْ أَنْ يُعْبَدَ فِي بِلَادِكُمْ هَذِهِ أَبَدً...

جامع ترمذی:

كتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں

(باب: مسلمان کی جان اورما ل کی حرمت کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2159. عمرو بن احوص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ کو لوگوں سے خطاب کرتے سنا: ’’یہ کون سا دن ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے ۱؎، آپﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے خون، تمہارے مال اورتمہاری عزت وآبروتمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہرمیں تمہارے اس دن کی حرمت وتقدس ہے، خبردار! جرم کرنے والے کا وبال خود اسی پرہے، خبردار! باپ کے قصور کا مواخذہ بیٹے سے اوربیٹے کے قصور کا مواخذہ باپ سے نہ ہوگا، سن لو! شیطان ہمیشہ کے لیے اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ تمہارے اس شہر میں اس کی پوجا ہوگی، البتہ ان چیزوں میں اس کی کچھ ...


9 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ لَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ...

حکم: ضعیف

2916 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْن حَنْطَبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنْ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ وَذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ فَل...

جامع ترمذی: كتاب: قرآن کریم کے فضائل ومناقب کے بیان میں (باب: جسے کوئی سورت دی گئی ہو اور وہ اسے بھلا دے اس...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2916. انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کے نیک اعمال کے اجروثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ (بھی ) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورہ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث غریب ہے۔۲۔ اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔۳۔ میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ ...


10 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الذُّنُوبِ

حکم: صحیح

4243 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ فَإِنَّ لَهَا مِنْ اللَّهِ طَالِبًا...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

(باب: گناہوں کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4243. ام المو منین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عا ئشہ! معمولی سمجھے جانے والے گناہوں سے بچنا، اللہ کے ہاں ان کا بھی مؤاخذہ ہو گا۔