1 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ، وَالْ...

حکم: صحیح

1742 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ، يُخْبِرُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ، يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَل...

صحیح مسلم: کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے (باب: جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو کرنے کی م...)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1742. ابونضر سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی، جنہیں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کہا جاتا تھا، کے خط سے روایت کی، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو، جب انہوں نے (جہاد کی غرض سے) حروریہ کی طرف کوچ کیا، یہ بتانے کے لیے خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بعض ایام (جنگ) میں، جن میں آپ کا دشمن سے مقابلہ ہوتا، انتظار کرتے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا، آپﷺ ان (ساتھیوں) کے درمیان کھڑے ہوتے اور فرماتے: ’’لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، (لیکن) جب تم ان کا سامنا کرو تو صبر کرو اور جان رکھو کہ جنت تلوار...


2 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ

حکم: صحیح

1801.01 وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لَأَر...

صحیح مسلم: کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے (باب: غزوہ خیبر)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1801.01. عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی جنگ لڑی، ہم نے وہاں صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر اللہ کے نبی ﷺ سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ تعالی  عنہ بھی سوار ہوئے اور میں سواری پر ابوطلحہ رضی اللہ تعالی  عنہ کے پیچھے تھا، اللہ کے نبی ﷺ نے خیبر کے تنگ راستوں میں اپنی سواری کو دوڑایا، میرا گھٹنا اللہ کے نبی ﷺ کی ران کو چھو رہا تھا، آپ ﷺ کی ران سے کپڑا ہٹ گیا اور میں رسول اللہ ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھ رہا تھا، جب آپﷺ بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: ’’اللہ اکبر! خیبر تباہ ہوا، ہم جب کسی قوم کے گھروں کے سامنے...


3 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ مَا يُدْعَى عِنْدَ اللِّقَاءِ

حکم: صحیح

2632 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا, قَالَ: >اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي، وَنَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: جہاد کے مسائل

(باب: دشمن سے آمنا سامنا ہو تو کیا دعا کی جائے؟)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2632. سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوے کے لیے تشریف لے جاتے تو یوں دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي، وَنَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ» ”اے اللہ! تو میرا بازو اور میرا مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا اور حملہ کرتا ہوں اور لڑائی کرتا ہوں۔“...


4 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنْ الْعَس...

حکم: حسن

2747 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ -يَوْمَ بَدْرٍ- فِي ثَلَاثِ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ, فَاحْمِلْهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ, فَاكْسُهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ, فَأَشْبِعْهُمْ<. فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا, وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ، وَاكْت...

سنن ابو داؤد:

کتاب: جہاد کے مسائل

(باب: لشکر کے ایک دستے کو اضافی انعام دینا جس نے بڑ...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2747. سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے روز تین سو پندرہ اشخاص کو لے کر روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! یہ لوگ پیدل ہیں، انہیں سواریاں دے، اے اللہ! یہ لوگ بے لباس ہیں، انہیں لباس عنایت فرما، اے اللہ! بھوکے ہیں انہیں سیر فرما۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بدر میں فتح عنایت فرمائی۔ پس جب یہ لوگ واپس ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک یا دو دو اونٹ تھے، انہیں کپڑے بھی ملے اور طعام سے بھی سیر ہوئے۔...


5 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابٌ فِي دُعَاءِ الضَّيْفِ​

حکم: ضعیف

3580 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا دَوْسٍ الْيَحْصُبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَائِذٍ الْيَحْصُبِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ زَعْكَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ عَبْدِي كُلَّ عَبْدِيَ الَّذِي يَذْكُرُنِي وَهُوَ مُلَاقٍ قِرْنَهُ يَعْنِي عِنْدَ الْقِتَالِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَلَا نَعْرِفُ لِعُمَارَ...

جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3580. عمارہ بن زعکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میرا بندہ کامل بندہ وہ ہے جو مجھے اس وقت یاد کرتا ہے جب وہ جنگ کے وقت اپنے مدمقابل (دشمن) کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوتا ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اس کی سند قوی نہیں ہے، اس ایک حدیث کے سوا ہم عمارہ بن زعکرہ کی نبی اکرم ﷺ سے کوئی اور روایت نہیں جانتے۔۲۔ اللہ کے قول (وَهُوَ مُلاَقٍ قِرْنَهُ) کا معنی و مطلب یہ ہے کہ لڑائی و جنگ کے وقت، یعنی ایسے وقت اور...


6 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابٌ فِي الدُّعَاءِ إِذَا غَزَا

حکم: صحیح

3584 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَأَنْتَ نَصِيرِي وَبِكَ أُقَاتِلُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَمَعْنَى قَوْلِهِ عَضُدِي يَعْنِي عَوْنِي...

جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: لڑائی کے وقت کی دعاکا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3584. انس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ جہاد کرتے (لڑتے) تو یہ دعا پڑھتے: (اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَأَنْتَ نَصِيرِي وَبِكَ أُقَاتِلُ)۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ۲۔ اور ’’عضدی‘‘ کے معنی ہیں تو میرا مدد گار ہے۔...


7 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ و...

حکم: صحیح

2796 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

(باب: اللہ سبحا نہ وتعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2796. حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ (دشمنوں کی) جماعتوں کے خلاف دعا فرمائی۔ اور فرمایا: (اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ) ’’اے اللہ! اے کتاب نازل کرنے والے! اے جلد حساب لینے والے! جماعتوں کو شکست دے دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں لڑکھڑا دے۔‘‘...