1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ (بَابُ مَا يُنْهَى عَنْ إِضَاعَةِ المَالِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2408. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَمَنَعَ وَهَاتِ وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ...

صحیح بخاری : کتاب: قرض لینے، ادا کرنے ، حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں (باب : مال کو تباہ کرنا یعنی بے جا اسراف منع ہے )

مترجم: BukhariWriterName

2408. حضرت مغیرہ بن شعبہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام کردیا ہے۔ حقوق ادا نہ کرنا اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا بھی حرام قراردیا ہے، نیز تمھارے لیے فضول گفتگو، کثرت سوال اور بربادی مال کو ناپسند کیا ہے۔‘‘ ...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَقَالَ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6473. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ: مُغِيرَةُ، وَفُلاَنٌ وَرَجُلٌ ثَالِثٌ أَيْضًا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى المُغِيرَةِ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ المُغِيرَةُ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاَةِ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، ...

صحیح بخاری : کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں (باب: بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے )

مترجم: BukhariWriterName

6473. حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے کاتب وراد بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو خط لکھا کہ کوئی حدیث جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو مجھے لکھ بھیجو، چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے انہیں لکھا: میں نے آپ ﷺ سے سنا: آپ نماز سے فراغت کے بعد یہ پڑھتے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہت ہے اور وہی حمد وثنا کا سزاوار ہے۔ اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔“ یہ تین مرتبہ پڑھتے تھے، نیز آپ فضول گفتگو، زیادہ سوال کرنے مال کے ضیاع اپنی چیز بچا کر رکھنے دوسروں کی چیز مانگنے ماؤں کی نافرمانی کرنے اور ...


3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

1715. حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلَاثًا، فَيَرْضَى لَكُمْ: أَنْ تَعْبُدُوهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، وَيَكْرَهُ لَكُمْ: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ...

صحیح مسلم : کتاب: جھگڑو ں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب (باب: بلا ضرورت کثرت سے سوالات کرنے کرنے کیث ممانعت اور روکنا’لاؤ ‘‘کی ممانعت ئاس سے مراد اپنے ذمے جو حق ہے اس کو ادا نہ کرنا اور جو اور جس چیز کا حق نہیں ہے اس کا مطالبہ کرنا ہے )

مترجم: MuslimWriterName

1715. جریر نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ اللہ تمہارے لیے تین چیزیں پسند کرتا ہے اور تین ناپسند کرتا ہے، وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ اور وہ تمہارے لیے قیل و قال (فضول باتوں)، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کرتا ہے...


4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

1715.01. وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا، وَلَمْ يَذْكُرْ: وَلَا تَفَرَّقُوا

صحیح مسلم : کتاب: جھگڑو ں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب (باب: بلا ضرورت کثرت سے سوالات کرنے کرنے کیث ممانعت اور روکنا’لاؤ ‘‘کی ممانعت ئاس سے مراد اپنے ذمے جو حق ہے اس کو ادا نہ کرنا اور جو اور جس چیز کا حق نہیں ہے اس کا مطالبہ کرنا ہے )

مترجم: MuslimWriterName

1715.01. ابوعوانہ نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (ناپسند کرتا ہے کی جگہ) "ناراض رہتا ہے" کہا اور انہوں نے "فرقوں میں نہ بٹو" (کا جملہ) بیان نہیں کیا


5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

1715.02. وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ: عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ...

صحیح مسلم : کتاب: جھگڑو ں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب (باب: بلا ضرورت کثرت سے سوالات کرنے کرنے کیث ممانعت اور روکنا’لاؤ ‘‘کی ممانعت ئاس سے مراد اپنے ذمے جو حق ہے اس کو ادا نہ کرنا اور جو اور جس چیز کا حق نہیں ہے اس کا مطالبہ کرنا ہے )

مترجم: MuslimWriterName

1715.02. جریر نے منصور سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ ؓ کے آزاد کردہ غلام وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی، آپ نے فرمایا: "بلاشبہ اللہ عزوجل نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور "روکنا، لاؤ" (دوسرے کے حقوق دبانے اور جو اپنا نہیں اسے حاصل کرنے) کو حرام کیا ہے اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے...


6 صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

1715.03. وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ

صحیح مسلم : کتاب: جھگڑو ں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب (باب: بلا ضرورت کثرت سے سوالات کرنے کرنے کیث ممانعت اور روکنا’لاؤ ‘‘کی ممانعت ئاس سے مراد اپنے ذمے جو حق ہے اس کو ادا نہ کرنا اور جو اور جس چیز کا حق نہیں ہے اس کا مطالبہ کرنا ہے )

مترجم: MuslimWriterName

1715.03. شیبان نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: "رسول اللہ ﷺ نے تم پر حرام کی ہیں" اور انہوں نے یہ نہیں کہا: "بلاشبہ اللہ نے تم پر حرام کی ہیں


7 صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

1715.04. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ...

صحیح مسلم : کتاب: جھگڑو ں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب (باب: بلا ضرورت کثرت سے سوالات کرنے کرنے کیث ممانعت اور روکنا’لاؤ ‘‘کی ممانعت ئاس سے مراد اپنے ذمے جو حق ہے اس کو ادا نہ کرنا اور جو اور جس چیز کا حق نہیں ہے اس کا مطالبہ کرنا ہے )

مترجم: MuslimWriterName

1715.04. شعبی سے روایت ہے، کہا: مجھے مغیرہ بن شعبہ ؓ کے کاتب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہ ؓ کی طرف لکھا: مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ تو انہوں نے ان کو لکھا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فر رہے تھے: "بلاشبہ اللہ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے: قیل و قال، مال کا ضیاع اور کثرتِ سوال...


8 صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَ...)

حکم: أحاديث صحيح مسلم كلّها صحيحة

1715.05. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ، حَرَّمَ عُقُوقَ الْوَالِدِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَلَا وَهَاتِ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ...

صحیح مسلم : کتاب: جھگڑو ں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب (باب: بلا ضرورت کثرت سے سوالات کرنے کرنے کیث ممانعت اور روکنا’لاؤ ‘‘کی ممانعت ئاس سے مراد اپنے ذمے جو حق ہے اس کو ادا نہ کرنا اور جو اور جس چیز کا حق نہیں ہے اس کا مطالبہ کرنا ہے )

مترجم: MuslimWriterName

1715.05. محمد بن عبیداللہ ثفقی نے ہمیں وراد سے خبر دی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ (بن شعبہ ؓ) نے حضرت معاویہ ؓ کو لکھ بھیجا: آپ پر سلامتی ہو۔ اس کے بعد! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فر رہے تھے: "بلاشبہ اللہ نے تین حرام کی ہیں اور تین چیزوں سے منع فرمایا ہے: اس نے والد کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور نہ دو اور لاؤ (اپنے ذمے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے اور ناجائز حقوق کا مطالبہ کرنے) کو حرام کیا ہے۔ اور تین باتوں سے منع کیا ہے: قیل و قال (فضول باتوں) سے، کثرتِ سوال سے، اور مال ضائع کرنے سے...