1 ‌سنن ابن ماجه کِتَابُ التَّيَمَُ بَابُ الْمَجِّ فِي الْإِنَاءِ

حکم: ضعیف

659 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ فَمَضْمَضَ مِنْهُ فَمَجَّ فِيهِ مِسْكًا أَوْ أَطْيَبَ مِنْ الْمِسْكِ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنْ الدَّلْوِ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: تیمم کے احکام ومسائل (باب: برتن میں کلی کرنا)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

659. حضرت وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کی خدمت میں (پانی کا) ڈول حاضر کیا گیا، آپ نے اس میں سے پانی لے کر کلی کی، پھر ڈول میں کلی کی جو کستوری کی طرح یا کستوری سے پاکزہ تر تھی اور آپ نے ڈول سے باہر ناک صاف کی۔


3 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ بَابُ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ

حکم: صحیح

754 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ قَدْ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي بِئْرٍ لَهُمْ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ السَّالِمِيِّ وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ بَنِي سَالِمٍ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي وَإِنَّ السَّيْلَ يَأ...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

(باب: گھروں میں نماز کی جگہ مقرر کر لینا درست ہے)

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

754. حضرت محمود بن ربیع انصاری ؓ سے روایت ہے، یہ وہ صحابی ہیں جن کے گھر میں رسول اللہ ﷺ نے ڈول سے پانی لے کر ان کے کنوئیں میں کلی فرمائی تھی، انہوں نے سیدنا عتبان بن مالک سالمی ؓ سے روایت کی، جو اپنے قبیلے بنو سالم (کی مسجد میں ان) کے امام تھے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جنگ بدر میں بھی شرکت فرمائی تھی۔ انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہوگئی ہے، اور سیلاب آتا ہے تو میں اپنے قبیلے کی مسجد تک نہیں پہنچ سکتا۔ وہاں سے گزرنا میرے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے ہاں تشریف لا کر میرے ...