1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ (بَابُ : قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «أَنَا أَعْلَمُكُمْ ب...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

20. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ، أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا.»...

صحیح بخاری : کتاب: ایمان کے بیان میں (باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں۔ )

مترجم: BukhariWriterName

20. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب صحابہ کرام ؓ کو حکم دیتے تو انہی کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ بآسانی کر سکتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا حال آپ جیسا نہیں ہے۔ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمایا ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ اس قدر ناراض ہوئے کہ آپ کے چہرہ مبارک پر غصے کا اثر ظاہر ہوا، پھر آپ نے فرمایا: ’’میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار اور اللہ کو جاننے والا ہوں۔‘‘ ...


2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (قَوْلِ اللَّهِ: {وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4476. حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و قَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا...

صحیح بخاری : کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد (( وعلم آدم الاسماءکلھا )) کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

4476. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "قیامت کے دن سب لوگ جمع ہو کر مشورہ کریں گے کہ آج ہم اپنے پروردگار کے حضور کسی کو سفارش بنائیں، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: آپ لوگوں کے باپ ہیں اور اللہ تعالٰی نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور تمام فرشتوں سے سجدہ کروایا، نیز آپ کو تمام نام سکھائے، لہذا آپ اپنے پروردگار کے حضور ہماری سفارش کریں کہ وہ ہمیں اس (تکلیف دہ) جگہ سے (نکال کر) راحت و آرام دے۔ وہ کہیں گے: آج میں اس قابل نہیں ہوں اور وہ اپنا گناہ یاد کر کے اللہ سے شرمائیں گے اور کہیں گے: تم حضرت نوح علیہ السلام ...


3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُو...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4712. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَشَ مِنْهَا نَهْشَةً ثُمَّ قَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُ...

صحیح بخاری : کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: آیت (( ذریۃ من حملنا مع نوح....الایۃ )) کی تفسیر یعنی”ان لوگوں کی نسل والو! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا، وہ (نوح) بیشک بڑا ہی شکر گزار بندہ تھا“۔ )

مترجم: BukhariWriterName

4712. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی کا حصہ آپ کو پیش کیا گیا۔ چونکہ آپ کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا، اس لیے آپ نے اسے دانتوں سے نوچ نوچ کر کھایا۔ پھر آپ نے فرمایا: "قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تمہیں علم ہے کہ یہ کس وجہ سے ہو گا؟ اللہ تعالٰی تمام اگلے پچھلے لوگوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کر دے گا۔ اس دوران میں پکارنے والا سب کو اپنی آواز سنائے گا اور ان سب پر اس کی نظر پہنچے گی سورج بالکل قریب آ جائے گا، چنانچہ لوگوں کو غم اور تکلیف اس قدر ہو گی جو ان کی طاقت سے باہر اور ناقابل برداشت ہو گی۔ لوگ...


4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدّ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4836. حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا زِيَادٌ هُوَ ابْنُ عِلَاقَةَ أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا...

صحیح بخاری : کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: آیت (( لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر )) کی تفسیریعنی ”تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے“ )

مترجم: BukhariWriterName

4836. حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج گئے۔ آپ سے عرض کی گئی: اللہ تعالٰی نے آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں (تو پھر اس قدر مشقت کیوں؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں شکرگزار بندہ نہ بنوں؟"


5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدّ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4837. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ سَمِعَ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنْ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّى جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ...

صحیح بخاری : کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: آیت (( لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر )) کی تفسیریعنی ”تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے“ )

مترجم: BukhariWriterName

4837. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں مبارک پھٹ جاتے۔ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے (ایک مرتبہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں، اللہ تعالٰی نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: "تو کیا پھر میں اللہ تعالٰی کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟" آخری عمر میں جب آپ کا جسم فربہ ہو گیا تو آپ یہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر کچھ قراءت فرماتے، پھر رکوع کرتے۔...


6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5063. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا فَقَالُوا وَأَيْنَ نَحْنُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَحَدُهُمْ أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا وَقَالَ آخَرُ أَنَا أَصُو...

صحیح بخاری : کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان (باب: نکاح کی فضیلت کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

5063. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تین آدمی نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے تاکہ وہ نبی ﷺ کی عبادت کت متعلق معلومات حاصل کریں۔ جب انہیں (اس کی) خبر دی گئی تو انہوں نے اسے کم خیال کیا، کہنے لگے کہ ہمارا نبی ﷺ کی عبادت سے کیا مقابلہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: میں ہمیشہ رات بھی نماز پڑھتا ہوں رہوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا، اور افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے علیحدگی اختیار کروں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے آئ...


7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابُ صِفَةِ الجَنَّةِ وَالنَّارِ)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6565. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ وَيَقُولُ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَه...

صحیح بخاری : کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں (باب: جنت و جہنم کا بیان )

مترجم: BukhariWriterName

6565. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت لوگ کہیں گے: اگر ہم اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش لے جائیں تو ممکن ہے کہ ہم اس حالت سے نجات پاجائیں،چنانچہ وہ حضرت آدمی علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: آپ ہی وہ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے ہاتھ سے بنایا،آپ کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی پھر فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا،لہذا رب کے حضور ہمارے لیے سفارش کردیں۔ وہ کہیں گے:میں تو اس لائق نہیں پھر وہ اپنی لغزش کا ذکر کرکے کہیں گے:تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ پہلے ...


8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِمَا خَلَقْتُ بِي...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7410. حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَمَا تَرَى النَّاسَ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكَ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَهَا وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُو...

صحیح بخاری : کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید (باب: اللہ تعالیٰ نے ( شیطان سے ) فرمایا تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔،، )

مترجم: BukhariWriterName

7410. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن تمام اہل ایمان کو اکٹھا کیا جائے گا تو وہ کہیں گے:کاش! ہم کسی کی سفارش اللہ کے حضور لے جائیں تاکہ ہمیں وہ اس حالت سے آرام دے دے، چنانچہ وہ سب مل کر سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: اے آدم! آپ لوگوں کی حالت کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس بلا میں گرفتار ہیں؟ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا،پھر فرشتوں سے سجدہ کرایا اور تمام اشیاء کے نام آپ کو سکھائے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس حالت سے نکات دے۔ سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے : میں اس منصب کے لائق نہیں ہوں۔ اور و...


9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7439. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ هَلْ تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِذَا كَانَتْ صَحْوًا قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا ثُمَّ قَالَ يُنَادِي مُنَادٍ لِيَذْهَبْ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَذْهَبُ أَصْحَابُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ وَأَصْحَابُ الْأَوْثَانِ مَعَ...

صحیح بخاری : کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید (باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ قیامت میں ) ارشاد اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے ، وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ، یا دیکھ رہے ہوں گے )

مترجم: BukhariWriterName

7439. سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”مطلع صاف ہونے کی صورت میں کیا تمہیں سورج اور چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یقیناً تمہیں اپنے رب کے دیدار میں کوئی تکلیف پیش نہیں آئے گی جیسے تمہیں سورج اور چاند دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔“ پھر فرمایا: ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔ تب صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ اور تمام معبود ان باطلہ کی پوجا ...


10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ...)

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7440. وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهِمُّوا بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ لِتَشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا قَالَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ قَالَ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَه...

صحیح بخاری : کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید (باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ قیامت میں ) ارشاد اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے ، وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ، یا دیکھ رہے ہوں گے )

مترجم: BukhariWriterName

7440. سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اہل ایمان کو ایک مقام پر روک لیا جائے گا جس کے باعث وہ غمگین اور پریشان ہوں گےاور کہیں گے : کاش ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارش پیش کریں تاکہ وہ ہمیں اس پریشانی سے نجات دے۔چنانچہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: آپ سیدنا آدم ہیں۔تمام لوگوں کے باپ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔پھر جنت میں ٹھہرایا۔ آپ کے لیے اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو تمام اشیاء کے نام سیکھائے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں کہ وہ ہمیں اس پریشانی سے نجات دے۔ وہ جواب دیں گے...