3 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ مَكَّةَ وَالمَدِينَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1204. حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ لاَ يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى إِلَّا فِي يَوْمَيْنِ: يَوْمَ يَقْدَمُ بِمَكَّةَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْدَمُهَا ضُحًى فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ المَقَامِ، وَيَوْمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ، فَإِذَا دَخَلَ المَسْجِدَ كَرِهَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: وَكَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا...

صحیح بخاری:

کتاب: مکہ و مدینہ میں نماز کی فضیلت

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1204.

حضرت نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر ؓ نماز چاشت صرف دو دن پڑھتے تھے: ایک جب مکہ مکرمہ آتے (تو اسے ضرور ادا کرتے) کیونکہ وہ مکہ مکرمہ چاشت ہی کے وقت آتے تھے، طواف کرتے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھتے۔ اور دوسرے جس دن وہ قباء جاتے (اس دن بھی نماز چاشت پڑھتے تھے)۔ وہ بروز ہفتہ مسجد قباء جاتے جب مسجد میں داخل ہوتے تو نماز پڑھے بغیر وہاں سے نکلنے کو برا خیال کرتے۔ ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء کی زیارت کے لیے کبھی سوار ہو کر اور کبھی پیدل جایا کرتے تھے۔

...

4 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العَمَلِ فِي الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1218. - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ يُونُسُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ المُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي الفَجْرِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِهِمْ، «فَفَجِئَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ، فَتَبَسَّمَ يَضْحَكُ» فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَقِبَيْهِ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، وَهَمَّ المُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1218.

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ لوگ پیر کے دن نماز فجر میں مشغول تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ انہیں نماز پڑھا رہے تھے۔ اچانک نبی ﷺ نے حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے حجرے سے پردہ اٹھایا اور لوگوں کی طرف دیکھا جبکہ وہ نماز میں صف بستہ تھے۔ آپ مسکراتے ہوئے ہنسے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابوبکر ؓ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے واپس ہوئے اور یہ خیال کیا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے تشریف لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو اس قدر خوش ہوئے کہ نماز ہی کو توڑ ڈالنے کا ارادہ کر لیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا کہ نماز کو پورا کرو، پھر حجرے میں تشریف لے گئ...

5 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العَمَلِ فِي الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1234. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا دَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ فَقَالَ ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1234.

حضرت عقبہ بن حارث ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ نمازِ عصر ادا کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی کسی بیوی کے گھر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد باہر تشریف لائے، آپ نے جلدی کرنے کی وجہ سے لوگوں کے چہروں پر تعجب و حیرت کے اثرات دیکھے تو فرمایا: ’’مجھے دوران نماز میں یاد آیا کہ ہمارے پاس سونے کا ٹکڑا ہے۔ میں نے شام یا رات تک اس کا گھر میں رکھنا پسند نہ کیا، اس لیے میں نے اسے (لوگوں میں) تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّهَادَاتِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2690. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ} [آل عمران: 77] إِلَى {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [آل عمران: 77]، ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ: فَقَالَ صَدَقَ، لَفِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ الل...

صحیح بخاری:

کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2690.

 

حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جو شخص کسی کامال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری: ’’جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو۔ ۔ ۔ ان کے لیے المناک عذاب ہو گا۔‘‘ پھر اشعث بن قیس  ؓ ہمارے پاس تشریف لائے اور انھوں نے دریافت کیا کہ ابو عبدالرحمان  ؓ تمھیں کیا حدی...