2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّهَادَاتِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2662. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ» مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لاَ مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ»...

صحیح بخاری:

کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2662.

حضرت ابوبکرہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے پاس کسی دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ نے کئی مرتبہ فرمایا: ’’تجھ پر افسوس ہے!تم نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔‘‘ پھر آپ نے تلقین فرمائی: ’’تم میں سے اگرکوئی اپنے بھائی کی ضرور تعریف کرنا چاہتا ہے تو اسے یوں کہنا چاہیے کہ اللہ ہی فلاں شخص کے متعلق صحیح علم رکھتا ہے۔ میں اس کے مقابلے میں کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔ میں اسے ایسا ایسا گمان کرتا ہوں بشرط یہ کہ وہ اس کی اس خوبی سے واقف ہو۔‘‘

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشُّرُوطِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2729. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ، أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ: فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الوَلاَءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخ...

صحیح بخاری:

کتاب: شرائط کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2729.

حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میرے پاس حضرت بریرہ  ؓ آئی اور عرض کرنے لگی کہ میں نے نو اوقیے چاندی کی ادائیگی کے عوض اپنے مالکان سے عقد کتابت کر لیاہے کہ ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہو گا، لہٰذا آپ میرا تعاون کریں۔ حضرت عائشہ  ؓ نے فرمایا: اگرمالکان پسند کریں تو میں یکمشت ان کو تیرا بدل کتابت ادا کردیتی ہوں۔ البتہ تیری ولا میرے لیے ہو گی، اگر انھیں منظور ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ حضرت بریرہ  ؓ اپنے مالکان کے پاس گئی، ان سے کہا تو انھوں نے اس طرح کرنے سے انکار کردیا۔ جب وہ ان کے پاس سے واپس آئی تو رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فر تھے۔ ا...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6041. حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَجِدُ أَحَدٌ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَحَتَّى أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ، وَحَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا»...

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6041.

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص ایمان کی مٹھاس اس وقت تم نہیں پا سکتا جب تک وہ اگر کسی سے محبت کرتا ہے تو صرف اللہ کے لیے اس سے محبت نہ کرے۔ اور حتیٰ کہ اس کو آگ میں ڈالا جانا اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ کفر کی طرف لوٹ کر جائے جبکہ اللہ تعالٰی نے اسے آگ سے نکال دیا ہے اور حتٰی کہ اللہ اور اس کا رسول ان دونوں کے ماسوا سے اسے زیادہ محبوب ہو۔“

...

7 سنن النسائي: كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ

صحیح

5002. أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا قَرَأَ عَلَيْهِمْ الْآيَةَ فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ...

سنن نسائی:

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان

()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

5002.

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہم نبی اکرم ﷺ سے کے پاس ایک مجلس میں موجو د تھے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ تعالی ٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گے، چوری نہیں کرو گے ،زنا نہیں کروگے، آپ نے پوری آیت تلاوت فرمائی ۔(پھر فرمایا) ”جو شخص اس عہد کو پورا کر ے گا ، اس کا اجر وثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ۔ اور جس شخص نے ان (مذکورہ کاموں) میں سے کسی کام کا ارتکاب کیا ،پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہوگا ۔چاہے اسے عذاب دے، چاہے معاف کرے۔“

...