1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابٌ: إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

173. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»...

صحیح بخاری:

کتاب: وضو کے بیان میں

(

باب: جب کتا برتن میں پی لے (تو کیا کرنا چاہیے)۔...)

173.

حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں: ’’ایک شخص نے کتے کو دیکھا جو شدت پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا، چناں چہ اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس میں پانی بھر بھر کر اسے پلانا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ خوب سیر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کی قدر کرتے ہوئے اسے جنت عطا فرما دی۔‘‘

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المُسَاقَاةِ (بَابُ فَضْلِ سَقْيِ المَاءِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2363. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَنَزَلَ بِئْرًا فَشَرِبَ مِنْهَا ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِكَلْبٍ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ ثُمَّ رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا قَالَ فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ...

صحیح بخاری:

کتاب: مساقات کے بیان میں

(باب : پانی پلانے کے ثواب کا بیان)

2363.

حضرت ابوہریرہ  ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک شخص جارہا تھا، اس کو سخت پیاس لگی تو وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا۔ جب وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے ہانپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے (دل میں) کہا کہ اسے بھی شدت پیاس سے وہی اذیت ہے جو مجھے تھی۔ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا اور اسے منہ میں لے کر ا وپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی قدردانی کرتے ہوئے اس کو معاف کردیا۔‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا: اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہمیں چوپایوں کی خدمت کرنے میں بھی اج...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ (بَابُ الآبَارِ عَلَى الطُّرُقِ إِذَا لَمْ يُتَأَذّ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2466. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَا خُفَّهُ مَاءً فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّه وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَ...

صحیح بخاری:

کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں

(باب : راستوں میں کنواں بنانا جب کہ ان سے کسی کو تک...)

2466.

حضرت ابو ہریرہ  ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایسا ہوا کہ ایک شخص راستے میں جا رہاتھا کہ اسے سخت پیاس لگی۔ اس نے ایک کنواں دیکھا تو اس میں اتر پڑا اور اپنی پیاس بجھائی۔ باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے خیال کیا کہ اسے بھی اسی طرح پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی، چنانچہ وہ کنویں میں اترااور اپنا موزہ پانی سے بھرا، پھر وہ کتے کو پلادیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا عمل قبول کیا اور اسے بخش دیا۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا جانوروں کی خدمت میں بھی ہمارے لیے اجرہے؟&lsqu...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6009. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، اشْتَدَّ عَلَيْهِ العَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا، فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الكَلْبَ مِنَ العَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ بِي، فَنَزَلَ البِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، فَسَقَى الكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَن...

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

(باب: انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا)

6009.

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی راستے میں چل رہا تھا اس دوران میں اسے شدت کی پیاس لگی اس نے ایک کنواں پایا اس میں اتر کر اس نے پانی پیا۔ جب باہر نکلا تو اس نے وہاں کتا دیکھا جو ہانپ رہاتھا اور پیاس کی وجہ سے تری چاٹ رہا تھا اس شخص نے خیال کیا کہ اس کتے کو پیاس سے وہی تکلیف پہنچی ہوگی جو مجھے پہنچی تھی چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اپنے جوتے میں پانی بھرا اور منہ سے پکڑ کر اسے باہر لایا پھر کتے کو پلایا۔ اللہ تعالٰی نے اس کے عمل کی قدر کرتے ہوئے اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ ک...

5 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْقِيَامِ عَلَى الدّ...)

صحیح

2550. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَنِي! فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ فَأَمْسَكَهُ بِفِيهِ، حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: جہاد کے مسائل

(باب: جانوروں اور چوپایوں کی خدمت اور خبرگیری کرنے ...)

2550.

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک آدمی کسی راستے میں جا رہا تھا کہ اسے بہت پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا، وہ اس میں اترا، پانی پیا اور باہر نکلا تو اس نے ایک کتا دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا اس آدمی نے سوچا کہ اس کتے کو بھی پیاس نے ستایا ہے، جیسے کہ مجھے ستایا تھا۔ پس وہ دوبارہ کنویں میں اترا، اپنے موزے کو پانی سے بھر کر اپنے منہ سے پکڑا اور اوپر چڑھ کر کتے کو پلایا، سو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرما لیا اور اسے بخش دیا۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے جانور...