2 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ

صحیح

546. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا»....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

546.

حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود آزاد کرنےوالا ہوتا ہے خود کو تباہ کرنے والا۔‘‘ 

...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ

صحیح

546. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا»....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

546.

حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود آزاد کرنےوالا ہوتا ہے خود کو تباہ کرنے والا۔‘‘ 

...

5 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

380. حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ حَفْصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِي...

جامع ترمذی: كتاب: نماز کے احکام ومسائل ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

380.

ام المو منین حفصہ‬ ؓ ک‬ہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہو جاتی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- حفصہ‬ ؓ ک‬ی حدیث حسن صحیح ہے۔
۲- اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہے۔
۳- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی...

6 سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ

صحیح

1192. أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي وَإِنَّمَا هُوَ مُوَجَّهٌ يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ...

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

1192.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ نے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو میں نے آپ کو نماز کی حالت میں پایا۔ میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے میری طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ اصل میں آپ اس وقت مشرق کی طرف جا رہے تھے۔

...