2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1966. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدَيْهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ...

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1966.

حضرت ابن عباس  ؓ سے روایت ہے انھوں نےفرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے آپ نے روزہ رکھا حتیٰ کہ جب مقام عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اسے ا پنے ہاتھوں کی طرف اٹھایا تاکہ لوگوں کو دکھائیں۔ پھر آپ نے روزہ افطار کردیا تاآنکہ آپ مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ یہ سفر دوران رمضان کا تھا۔ حضرت ابن عباس  ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا اور افطار بھی کیا اب جو چاہے (دوران سفر میں) روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7242. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ أَذِنَ لَهُمْ الْمُسْلِمُونَ فِي عِتْقِ سَبْيِ هَوَازِنَ إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَن...

صحیح بخاری:

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7242.

سیدنا عروہ بن زبیر سے روایت ہے انہوں مروان بن حکم اور سیدنا مسور بن مخرمہ ؓ نے بتایا کہ جب مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کو ہوازن کے قیدی آزاد کر دینے کے متعلق کہا تو آپ نےفرمایا: میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ ”اب تم واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ تمہارے نمبردار تمہارا معاملہ ہم تک پہنچائیں۔“ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے درمیان ذمہ داران نے ان سے گفتگو کی۔ پھر انہوں نے آکر رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی کہ لوگوں نے اپنے دل کی خوشی سے اجازت دے دی ہے۔

...