3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4437. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُحَيَّا أَوْ يُخَيَّرَ فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فَقُلْتُ إِذًا لَا يُجَاوِرُنَا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4437.

حضرت عائشہ‬ ؓ ہ‬ی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تندرستی کی حالت میں فرماتے تھے: ’’نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا حتی کہ وہ اپنی جگہ جنت میں نہ دیکھ لے، پھر اسے زندگی یا موت کا اختیار دیا جاتا ہے۔‘‘ جب آپ ﷺ بیمار ہوئے اور آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ میری ران پر سر رکھے ہوئے تھے۔ پہلے آپ پر غشی طاری ہوئی، پھر کچھ افاقہ ہوا تو چھت کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’اے اللہ! مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔‘‘ اس وقت میں نے (دل میں) کہا کہ اب آپ ہمارے پاس رہنا پسند نہیں کریں گے۔ تب مجھے آپ کی اس حدیث کی تصدیق ہو گئی جو آپ...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ

صحیح

551. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ»...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

551.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے، اس لیے وہ نہ اپنے سامنے تھوکے نہ ہی دائیں طرف، البتہ بائیں طرف پاؤں کے نیچے (تھوک لے)۔‘‘

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ

صحیح

551. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ»...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

551.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے، اس لیے وہ نہ اپنے سامنے تھوکے نہ ہی دائیں طرف، البتہ بائیں طرف پاؤں کے نیچے (تھوک لے)۔‘‘

6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

1567. حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرَائِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ خَيِّرْهُمْ يَعْنِي أَصْحَابَكَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ الْقَتْلَ أَوْ الْفِدَاءَ عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ قَالُوا الْفِدَاءَ وَيُقْتَلُ مِنَّا وَفِي الْبَاب عَنْ اب...

جامع ترمذی: كتاب: سیر کے بیان میں ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

1567.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جبرئیل نے میرے پاس آکرکہا: اپنے ساتھیوں کو بدرکے قیدیوں کے سلسلے میں اختیاردیں، وہ چاہیں توانہیں قتل کریں، چاہیں توفدیہ لیں، فدیہ کی صورت میں ان میں سے آئندہ سال اتنے ہی آدمی قتل کئے جائیں گے، ان لوگوں نے کہا: فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱۔ یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف ابن ابی زائدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
۲۔ ابواسامہ نے بسند ہشام عن ابن سیرین عن عبیدہ عن علی عن النبی ﷺ اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
۳۔ ابن عون نے بسند