1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَضَائِلِ المَدِينَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1900. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا طَوِيلًا عَنْ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا بِهِ أَنْ قَالَ يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا عَنْكَ رَس...

صحیح بخاری:

کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1900.

حضرت ابو سعیدخدری  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ اس حدیث میں یہ بھی فرمایا: ’’جب دجال آئے گا تو مدینہ طیبہ سے باہر ایک شوریلی زمین میں ٹھہرے گا۔ کیونکہ اس پر مدینہ طیبہ کے اندر آنا حرام کردیا گیا ہے۔ پھر اہل مدینہ سے وہ شخص اس کے پاس جائے گا جو اس وقت کے تمام لوگوں سے بہتر ہوگا وہ کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا تھا۔ دجال کہےگا: بتاؤ!اگر میں اسے قتل کرکے دوبارہ زندہ کردوں تو کیا تم پھر بھی میرے معاملے میں شک کرو گے؟لوگ کہیں گے : نہیں، ...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَضَائِلِ المَدِينَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1907. حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ يَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ الل...

صحیح بخاری:

کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1907.

حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر  ؓ اور حضرت بلال  ؓ کو بخار آگیا۔ حضرت ابو بکر  ؓ کو جب بخار آتا تو یہ شعر پڑھتے:’’ گھر میں اپنے صبح کرتا ہے ایک فرد بشر۔۔۔ موت اس کی جوتی کے تسمے سے ہے نزدیک تر،، حضر ت بلال  ؓ کا جب بخار اترتا تو باآواز بلند یہ شعر کہتے: کاش !پھر مکہ کی وادی میں رہوں میں ایک رات۔۔۔ سب طرف اُگے ہوں وہاں جلیل و اذخر نبات۔۔۔ کاش!پھر دیکھوں میں شامہ، کاش! پھر دیکھوں طفیل۔۔۔اورپیوں پانی مجنہ کے جو ہیں آب حیات،،، اے اللہ!شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَضَائِلِ المَدِينَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1908. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ زُرَيْعٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ سَمِعْتُ عُمَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1908.

حضرت عمر  ؓ سے روایت ہے انھوں نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت نصیب فرما اور میری موت تیرے (محبوب) رسول اللہ ﷺ کے شہر میں واقع ہو۔ (امام بخاری ؒ نے اس حدیث کی مختلف اسنادذکر کی ہیں: )زید بن اسلم اپنی والدہ سے وہ حضرت حفصہ بنت عمر  ؓ سے وہ اپنے باپ حضرت عمر  ؓ سے بیان کر تی ہیں۔ حضرت ہشام نے حضرت زید سے، وہ ا پنے والد سے وہ حضرت حفصہ  ؓ سے اور انھوں نے حضرت عمر  ؓ سے یہی حدیث بیان کی۔

...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1913. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَامِعٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ قَالَ لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنْ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ قَالَ وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا قَالَ فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ قَالَ يُكْسَرُ قَالَ ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْق...

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1913.

حضرت حذیفہ  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا حضرت عمر  ؓ نے فرمایا کہ فتنے کے متعلق نبی کریم ﷺ کی حدیث کسی کو یاد ہے؟ حضرت حذیفہ  ؓ نے کہا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا؛ ’’انسان کے لیے اس کے بال بچے، اس کا مال اور اس کے پڑوسی باعث آزمائش ہیں جس کاکفارہ نماز پڑھنا روزہ رکھنا اور صدقہ دینا بن جاتا ہے۔‘‘ حضرت عمر  ؓ نے فرمایا: میں اس فتنے کے متعلق نہیں پوچھ رہاہوں بلکہ مجھے اس فتنے کے بارے میں دریافت کرنا ہے۔ جو سمندر کی طرح موجزن ہوگا۔ حضرت حذیفہ  ؓ نے عرض کیا کہ اس فتنے سے پہلے ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر  ؓ...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطَّلاَقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5302. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي القَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا، فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: «لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ»...

صحیح بخاری:

کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5302.

سیدہ عاشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ اس کی بیوی نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا۔ دوسرے خاوند نے بھی اسے طلاق دے دی۔ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا: کیا پہلے شوہر کے لیے اب یہ عورت حلال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر اس سے لطف اندوز ہو جیسا کہ پہلا شوہر ہوا تھا۔“

...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ

صحیح

1080. وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ - قَدْ سَمَّاهُ - زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّيَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1080.

عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص (حکم نے اس کا نام لیا) کوفہ (کے اقتدار) پر قابض ہو گیا، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ نماز پڑھاتے تھے، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: ’’اے اللہ! ہمارب! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دین...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ

صحیح

1080. وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ - قَدْ سَمَّاهُ - زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّيَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1080.

عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص (حکم نے اس کا نام لیا) کوفہ (کے اقتدار) پر قابض ہو گیا، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ نماز پڑھاتے تھے، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: ’’اے اللہ! ہمارب! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دین...

9 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ

صحیح

1080. وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ - قَدْ سَمَّاهُ - زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّيَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1080.

عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص (حکم نے اس کا نام لیا) کوفہ (کے اقتدار) پر قابض ہو گیا، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ نماز پڑھاتے تھے، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: ’’اے اللہ! ہمارب! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دین...

10 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ

صحیح

1080. وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ - قَدْ سَمَّاهُ - زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّيَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1080.

عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص (حکم نے اس کا نام لیا) کوفہ (کے اقتدار) پر قابض ہو گیا، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ نماز پڑھاتے تھے، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا: ’’اے اللہ! ہمارب! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دین...