1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2589. حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ المُهَاجِرِينَ، وَكَانَ لَهَا غُلاَمٌ نَجَّارٌ، قَالَ لَهَا: «مُرِي عَبْدَكِ فَلْيَعْمَلْ لَنَا أَعْوَادَ المِنْبَرِ»، فَأَمَرَتْ عَبْدَهَا، فَذَهَبَ فَقَطَعَ مِنَ الطَّرْفَاءِ، فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا، فَلَمَّا قَضَاهُ، أَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ قَضَاهُ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسِلِي بِهِ إِلَيَّ»، فَجَاءُوا بِهِ، فَاحْتَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ع...

صحیح بخاری:

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2589.

حضرت سہل  ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مہاجرین کی ایک خاتون کی طرف پیغام بھیجا، اس کا ایک بڑھئی غلام تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا: ’’اپنے غلام سے کہو کہ وہ ہمارے لیے منبر کے تختے بنادے۔‘‘ اس عورت نے اپنے غلام کو حکم دیا، وہ جنگل کی طرف گیا اور جھاؤ کی لکڑی کاٹ لایا، پھر اس سے آپ کے لیے منبر تیار کیا۔ جب اس نے کام پورا کرلیا تو اس خاتون نے نبی کریم ﷺ کو پیغام بھیجا کہ اس(غلام) نے منبر تیار کردیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے میرے پاس بھیج دو۔‘‘ لوگ منبر لے کر آئے تو نبی کریم ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے اٹھایا اور وہاں رکھ ...

2 صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا

صحیح

1622. و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى صَلَاةَ الْمُسَافِرِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ قَالَ سِتَّ سِنِينَ قَالَ حَفْصٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَأْتِي فِرَاشَهُ فَقُلْتُ أَيْ عَمِّ لَوْ صَلَّيْتَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ قَالَ لَوْ فَعَلْتُ لَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1622.

عبیداللہ بن معاذ نے حدیث بیان کی، کہا: میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے خبیب بن عبدالرحمان سے حدیث سنائی، انھوں نے حفص بن عاصم سے سنا، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا، کہا: نبی ﷺ ابو بکر،عمر،اور عثمان، رضوان اللہ عنھم اجمعین نے (پہلے) آٹھ سال یا کہا: چھ سال۔۔۔ منیٰ میں مسافر والی نماز پڑھی۔ حفص نے کہا: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر اپنے بستر پر آ جاتے تھے۔ میں نے کہا: چچا جان! اگر آپ فرض نماز کے بعد دو سنتیں بھی پڑھ لیا کریں! تو انھوں نے کہا: اگر میں ایسا کروں تو (گویا) پوری نماز پڑھوں...

3 سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ

ضعیف

3539. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ<. ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

3539.

جناب عمر بن خلدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایک صاحب کے سلسلے میں، جو مفلس ہو گیا تھا۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا: میں ہر صورت رسول اللہ ﷺ والا فیصلہ کروں گا۔ (فرمایا) جو شخص مفلس یا فوت ہو جائے اور مال والا بعینہ اپنا مال اس کے پاس پائے، تو وہی اس مال کا زیادہ حقدار ہو گا۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: کون اس حدیث کو قبول کرے گا۔ (راوی حدیث) ابوالمعتمر کون ہے؟ یعنی ہم اس کو نہیں جانتے۔

...

4 سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ

صحیح

3578. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ لَا بَلْ عَمَقٌ مَضْمُونَةٌ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطٍ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا...

سنن ابو داؤد:

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

3578.

سیدنا صفوان بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے غزوہ حنین کے موقع پر زرہیں عاریتاً طلب کیں تو اس نے کہا: اے محمد! کیا زبردستی لینا چاہتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ عاریتاً ہیں، (اگر ضائع ہوئیں تو) ہم ان کا عوض دیں گے۔“ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ یزید (یزید بن ہارون) کی یہ روایت بغداد کی ہے لیکن واسطہ میں جب یہ روایت بیان کی تو الفاظ اس سے مختلف تھے۔

...

5 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

1298. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِعَبْدٍ بِعَبْدَيْنِ يَدًا ...

جامع ترمذی: كتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

1298.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا اوراس نے نبی اکرمﷺسے ہجرت پربیعت کی، نبی اکرم ﷺ نہیں جان سکے کہ یہ غلام ہے۔ اتنے میں اس کا مالک آ گیا وہ اس کا مطالبہ کر رہا تھا، نبی اکرمﷺنے اس سے کہا: تم اسے مجھ سے بیچ دو، چنانچہ آپﷺ نے اُسے دوکالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپﷺ کسی سے اس وقت تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس سے دریافت نہ کرلیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱۔ جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
۲۔ اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے۔
۳۔ اہل علم کااسی حدیث پرعمل ہے کہ ایک غلام کو دوغلام سے نقدا نقد خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور...