2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَرْضِ الخُمُسِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3173. حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ المِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ أَجْلَى اليَهُودَ، وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ، أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ اليَهُودَ مِنْهَا، وَكَانَتِ الأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ وَلِلرَّسُولِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ اليَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا العَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ...

صحیح بخاری:

کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3173.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہود ونصاریٰ کو ارض حجاز سے جلا وطن کردیا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی زمین پر غلبہ حاصل کیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکال دینے کا ارادہ فرمایا۔ چونکہ وہ زمین یہودیوں کی تھی۔ جب آپ نے اس پر غلبہ پالیا تو وہ زمین رسول اللہ ﷺ اور اہل اسلام کی ہوگئی تو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ انھیں وہاں اس شرط پر رہنے دیں کہ وہ زمین میں کام کریں گے اور انھیں پیداوار سے نصف دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمھیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6142. حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الحَاشِيَةِ»، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً، قَالَ أَنَسٌ: «فَنَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ»، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، «فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُ...

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6142.

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ نے موٹے کنارے والی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اس دوران میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔ حضرت انس ؓ نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کے شانہ مبارک کو دیکھا کہ چادر کو زور سے کھینچنے کی بنا پر اس پر نشان پڑ گئے تھے، پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے، اس میں مجھے دینے کا حکم دیجیے آپ ﷺ نے مڑ کر اسے دیکھا تو آپ ہنس پڑے، پھر آپ نے اس کے لیے مال دینے کا حکم دیا۔

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الكُفْرِ وَالرِّدَّةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6898. حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِكِتَابِ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةٍ مِنْ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَزَعَمُوا أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِي...

صحیح بخاری: کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمان سے لڑتے ہیں ()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6898.

حضرت ابو ہریرہ ؓ اور حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! (ہمارے درمیان) اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں اس کا مخالف کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے صحیح کہا ہے۔ اس کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں۔ بات یہ ہے کہ میرا لڑکا اس کے ملازم تھا اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا ہے۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، چنانچہ میں نے اس سزا کے بدلے سو بکریاں اور ایک لونڈی کا فدیہ دیا۔ پھر اس نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ میرے ل...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الفِتَنِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7192. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا...

صحیح بخاری:

کتاب: فتنوں کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7192.

سیدنا ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت اس کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔“ ابراہیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں بصرے آیا تو مجھ سے ابو بکرہ ؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے-

...

9 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الزَّكَاةِ

ضعیف

1638. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ أَوْ يَدْعُوكَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَاهُ فِرَاسٌ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

1638.

سیدنا ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کسی غنی کے لیے حلال نہیں ہے۔ الا یہ کہ وہ اللہ کی راہ میں (مجاہد) ہو یا مسافر ہو یا کسی فقیر ہمسائے کو صدقہ دیا گیا تو وہ فقیر تمہیں ہدیہ دیدے، یا آپ کی دعوت کر دے۔“ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، انہوں نے ابوسعید سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

...