1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3576. حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَهُ شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنِهِ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ قَالَ يُوسُفُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ إِلَى مَنْكِبَيْهِ...

صحیح بخاری:

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3576.

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نےفرمایا: نبی ﷺ میانہ قامت تھے۔ دونوں شانوں کے درمیان کشادگی تھی۔ آپ کے بال کان کی لو تک پہنچتے تھے۔ میں نے ایک دفعہ آپ کو سرخ (دھاری دار) جوڑاپہنے دیکھا۔ میں نے آپ سے زیادہ کسی کو حسین اور خوبصورت نہیں دیکھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ کےبال کندھوں تک پہنچتے تھے۔

...

9 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْأَضَاحِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

1591. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَفَعَهُ قَالَ لَا يُضَحَّى بِالْعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا وَلَا بِالْعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا وَلَا بِالْمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا وَلَا بِالْعَجْفَاءِ الَّتِي لَا تُنْقِي ....

جامع ترمذی: كتاب: قربانی کے احکام ومسائل ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

1591.

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’ایسے لنگڑے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑاپن واضح ہو، نہ ایسے اندھے جانورکی جس کا اندھا پن واضح ہو، نہ ایسے ہی رجانور کی جس کی بیماری واضح ہو، اورنہ ایسے لاغر وکمزور جانور کی قربانی کی جائے جس کی ہڈی میں گودانہ ہو‘‘ ۱؎۔

...

10 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْأَضَاحِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

ضعيف

1594. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ قَالَ الْمُقَابَلَةُ مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا وَالْمُدَابَرَةُ مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ وَالشَّرْقَاءُ الْمَشْقُوقَةُ وَالْخَرْقَاءُ الْمَثْقُوبَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ أَبُو عِيسَى وَشُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيُّ هُوَ كُوفِيٌّ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَشُرَيْحُ بْنُ هَانِيءٍ كُوفِيٌّ وَلِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَشُرَيْحُ ...

جامع ترمذی: كتاب: قربانی کے احکام ومسائل ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

1594.

اس سند سے بھی علی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ مقابلہ وہ جانورہے جس کے کان کا کنارہ (آگے سے) کٹا ہو، مدابرہ وہ جانورہے جس کے کان کا کنارہ (پیچھے سے) کٹا ہو، شرقاء ، جس کا کان (لمبائی میں) چیرا ہوا ہو، اورخرقاء جس کے کان میں (گول) سوراخ ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۲۔ شریح بن نعمان صائدی، کو فہ کے رہنے والے ہیں اورعلی ؓ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔
۳۔ شریح بن ہانی کوفہ کے رہنے والے ہیں اوران کے والد کو شرف صحبت حاصل ہے اورعلی ؓ کے ساتھی ہیں، اورشریح بن حارث کندی ابوامیہ قاضی ہیں، انہوں نے علی ؓ سے روایت کی...