1 جامع الترمذي: أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

2675. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا شَطْرٌ مِنْ شَعِيرٍ فَأَكَلْنَا مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قُلْتُ لِلْجَارِيَةِ كِيلِيهِ فَكَالَتْهُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ قَالَتْ فَلَوْ كُنَّا تَرَكْنَاهُ لَأَكَلْنَا مِنْهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَى قَوْلِهَا شَطْرٌ تَعْنِي شَيْئًا...

جامع ترمذی:

كتاب: احوال قیامت ،رقت قلب اورورع کے بیان میں

()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

2675.

ام المومنین عائشہ‬ ؓ ک‬ہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اس وقت ہمارے پاس تھوڑے سے جوتھے، پھرجتنی مدت تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسی سے کھایا، پھر ہم نے لونڈی کو جو تولنے کے لیے کہا، تو اس نے تولا، پھربقیہ جو بھی جلد ہی ختم ہوگئے، لیکن اگر ہم اسے چھوڑ دیتے اور نہ تولتے تو اس میں سے اس سے زیادہ مدت تک کھاتے۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۲۔ یہاں عائشہ‬ ؓ ک‬ے قول (شطر) کا معنی قدرے اور تھوڑا ہے۔

...

2 سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ

صحیح

2554. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَاه أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الْمُنْفِقِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَن...

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

2554.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کرنے والے کی اور کنجوس شخص کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن کے جسم پر لوہے کے کرتے یا زرہیں ہوں، جنھوں نے ان کے سینوں کو ڈھانپ رکھا ہو۔ جب سخی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کھل جاتی ہے اور وسیع ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات قدم کو مٹا دیتی ہے۔ اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ سکڑ جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ سمٹ جاتی ہے حتیٰ کہ اس کے حلق یا گلے کو پکڑ لیتی ہے۔“ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے...

3 سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ

صحیح

203. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى، لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ، يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُ، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا فِي يَدَيْهِ شَيْئًا ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت ()

١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

203.

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھر پور ہے، کوئی شے اس (کے خزانوں) کو کم نہیں کرتی، وہ رات دن فراواں عطا فرماتا ہے۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے، وہ ترازو کو اونچا کرتا ہے اور جھکاتا ہے۔ غور کرو جب سے اللہ نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا ہے، (تب سے اب تک) کس قدر (بے حساب) خرچ کردیا ہوگا؟ اس کے باوجود جو کچھ اس کے ہاتھوں میں ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔‘‘

...