2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

742. حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً - قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ حَصِيرٍ - فِي رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا ا...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

742.

حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک میں ایک حجرہ بنایا تھا، میرا گمان ہے کہ وہ چٹائی کا تھا۔ آپ نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی۔ آپ کے صحابہ میں سے کئی لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ جب آپ کو ان کے متعلق معلوم ہوا تو آپ بیٹھ رہے، پھر ان کی طرف تشریف لائے اور فرمایا: ’’میں نے تمہارا عمل دیکھا اور تمہارا ارادہ پہچان لیا ہے۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کیونکہ افضل نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ادا ہو، مگر فرض نماز (کہ اس کی ادائیگی مسجد میں ہونی چاہئے)۔‘‘ عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6644. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِي فَيُحَلَّئُونَ عَنْهُ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ إِنَّهُمْ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ الْقَهْقَرَى وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُجْلَوْنَ وَقَالَ عُقَيْلٌ ف...

صحیح بخاری:

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6644.

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ نبی ﷺ کے صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حوض ميرے ساتھیوں کی ایک جماعت آئے گی۔ پھر انہیں وہاں سے دور کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالٰی فرمائے گا: تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ یہ الٹے پاؤں اسلام سے واپس ہو گئے تھے۔“ شعیب نے امام زہری سے بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ ﷺ فیجلون کے الفاظ بیان کرتے تھے اور عقیل فیحلون بیان کرتے تھے۔ زبیدی نے امام زہری سے بیان کیا...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ

صحیح

425. حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ وَزَادَ وَنَقَصَ....

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

425.

شریک بن عبد اللہ بن ابی نمرؒ نے حدیث سنائی (کہا): میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے سنا، وہ ہمیں اس رات کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ کو مسجد کعبہ سے رات کے سفر پر لے جایا گیا: کہ آپ ﷺ کی طرف وحی کیے جانے سے پہلے آپ کے پاس تین نفر (فرشتے) آئے، اس وقت آپ ﷺ مسجد حرام میں سوئے تھے۔ شریکؒ نے ’’واقعہ اسراء‘‘ ثابت بنانیؒ کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا، اور (کچھ میں) کمی بیشی کی۔ (امام مسلمؒ نے یہ تفصیل بتا کر پوری روایت نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔)

...

5 سنن النسائي: كِتَابُ التَّطْبِيقِ

صحیح

1054. أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ...

سنن نسائی: کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان ()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

1054.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ جب رکوع فرماتے تو یوں کہتے: [اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ] ”اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا اور تجھی پر بھروسا کیا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کانوں، آنکھوں، خون، گوشت، ہڈیوں اور پٹھوں نے اللہ عزوجل کے سامنے عجز و نیاز ظاہر کیا جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“

...

6 سنن النسائي: كِتَابُ التَّطْبِيقِ

صحیح

1117. أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو السَّرْحِيُّ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَ...

سنن نسائی: کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان ()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

1117.

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے دیکھا جب کہ وہ سر کے بالوں کا جوڑا بنا کر اسے پیچھے باندھے ہوئے تھے۔ آپ اٹھے اور بالوں کا جوڑا (گچھا) کھولنے لگے۔ عبداللہ بن حارث نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس ؓ کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے: آپ کو میرے بالوں سے کیا شکایت تھی؟ (جو آپ نے انھیں کھولا) انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اس قسم کے نمازی کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیچھے بندھے ہوئے ہاتھوں (کسی مشکوں) سے نماز پڑھتا ہے۔“

...