4 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ الوِترِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1014. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ فَقَالَ قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ قُلْتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ قَبْلَهُ قَالَ فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا أُرَاهُ كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ زُهَاءَ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَق...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز وتر کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1014.

عاصم بن سلیمان سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس ؓ سے قنوت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: بلاشبہ قنوت پڑھی جاتی تھی۔ میں نے پوچھا: رکوع سے پہلے یا بعد؟ انہوں نے کہا: قبل از رکوع پڑھی جاتی تھی۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ فلاں شخص تو آپ سے بیان کرتا ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد فرمایا ہے۔ حضرت انس ؓ بولے: وہ غلط کہتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک مہینہ رکوع کے بعد قنوت پڑھی تھی۔ میرے خیال کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف تقریبا ستر آدمی روانہ کیے جنہیں قراء کہا جاتا تھا۔ (مشرکین نے انہیں قتل کر دیا۔) یہ (قتل کرنے والے) مشرک لوگ ان مشرکین کے علاوہ تھے جن کے ا...

8 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1018. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَ...

صحیح بخاری:

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1018.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب آخری رکعت (کے رکوع) سے اپنا سر اٹھاتے تو دعا کرتے: ’’اللہ! عیاش بن ربیعہ کو نجات دے۔ اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! بےبس اور ناتواں اہل ایمان کو نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت فرما، اللہ! ان پر ایسی قحط سالی ڈال جیسی حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں تھی۔‘‘ اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قبیلہ غفار کو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا۔‘‘ (راوی حدیث) حضرت ابو زناد اپنے باپ سے بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ مذک...

9 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1019. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا، قَالَ: «اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ»، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى أَكَلُوا الجُلُودَ وَالمَيْتَةَ وَالجِيَفَ، وَيَنْظُرَ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى الدُّخَانَ مِنَ الجُوعِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ، وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُم...

صحیح بخاری:

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1019.

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے لوگوں کی اسلام سے سرتابی دیکھی تو بددعا کی: ’’اے اللہ! انہیں سات برس تک قحط سالی میں مبتلا کر دے جیسا کہ حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں قحط پڑا تھا۔‘‘ چنانچہ قحط نے انہیں ایسا دبوچا کہ ہر چیز نیست و نابود ہو گئی یہاں تک کہ لوگوں نے چمڑے، مردار اور گلے سڑے جانور کھانے شروع کر دیے۔ اور ان میں سے اگر کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو بھوک کی وجہ سے اسے دھواں سا دکھائی دیتا۔ آخر ابوسفیان نے آ کر آپ کی خدمت میں عرض کی: اے محمد! آپ اللہ کی اطاعت اور اقرباء پروری کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم مری جا رہی ہے، آ...

10 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1033. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَامَ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّتْ الشَّجَرُ وَهَلَكَتْ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللَّهَ يَسْقِينَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اسْقِنَا مَرَّتَيْنِ وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ وَأَمْطَرَتْ وَنَزَلَ عَنْ الْمِنْبَرِ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ لَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى...

صحیح بخاری:

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1033.

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو کچھ لوگ اٹھ کر بول پڑے۔ انہوں نے فریاد کی: اللہ کے رسول! بارش نہیں ہو رہی، درخت پیلے ہو گئے اور مویشی مرنے لگے، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ آپ نے دو مرتبہ فرمایا: ’’اے اللہ! ہمیں سیراب فرما۔‘‘ اللہ کی قسم! ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دیتا تھا کہ اچانک ابر نمودار ہوا اور برسنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ منبر سے اترے اور نماز پڑھی، پھر واپس گھر کو لوٹے یہ بارش اگلے جمعے تک برستی رہی۔ دوسرے جمعہ جب نبی ﷺ خطبہ دینے کے لی...