1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَرْضِ الخُمُسِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3136. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلاَمٌ فَسَمَّاهُ القَاسِمَ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ لاَ نَكْنِيكَ أَبَا القَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَسَمَّيْتُهُ القَاسِمَ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: لاَ نَكْنِيكَ أَبَا القَاسِمِ، وَلاَ نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْسَنَتِ الأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّ...

صحیح بخاری:

کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3136.

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری  ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ اس پر انصار نے کہا: ہم تجھے ابو القاسم ہر گز نہیں کہیں گے اور نہ اس کنیت سے تمہاری آنکھ ہی ٹھنڈی کریں گے۔ یہ سن کر وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول ﷺ ! میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے، اب انصار کہتے ہیں کہ ہم تجھے نہ تو ابو القاسم کہیں گے اور نہ ہی تیری آنکھ ٹھنڈی کریں گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’انصار نے اچھا کردار ادا کیا ہے۔ میرے نام پر نام تو...

2 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3876. حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِّلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا، قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الإِسْلاَمِ»،...

صحیح بخاری:

کتاب: انصار کے مناقب

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3876.

حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ بعاث کی لڑائی اللہ تعالٰی نے رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے برپا کرادی تھی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انصار کی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ ان کے سردار مارے جا چکے تھے یا زخمی پڑے تھے۔ اللہ تعالٰی نے اس (لڑائی) کو اپنے رسول ﷺ کی خاطر پہلے برپا کرا دیا تاکہ انصار اسلام میں داخل ہو جائیں۔

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4232. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ فَقَالَ أُكِلَتْ الْحُمُرُ فَسَكَتَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ أُكِلَتْ الْحُمُرُ فَسَكَتَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ أُفْنِيَتْ الْحُمُرُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4232.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آنے والے نے آ کر کہا: گدھوں کا گوشت کھایا جا رہ ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی۔ پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا: گدھوں کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ آپ ﷺ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ گدھے ختم ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک منادی کے ذریعے سے اعلان کرایا: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، چنانچہ اس (اعلان) کے بعد تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں، حالانکہ ان میں گوشت پک رہا تھا۔

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4233. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ قَرِيبًا مِنْ خَيْبَرَ بِغَلَسٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ فَقَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ وَكَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا فَقَال...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4233.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے نمازِ فجر خیبر کے قریب پہنچ کر اندھیرے میں ادا کی، پھر فرمیا: ’’اللہ اکبر، خیبر برباد ہو چکا۔ یقینا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہو جاتی ہے۔‘‘ اس کے بعد یہودی گلیوں میں دوڑتے ہوئے نکلے۔ آخر کار نبی ﷺ نے جنگجو نوجوانوں کو قتل کر دیا، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔ ان قیدی عورتوں میں حضرت صفیہ ؓ بھی تھیں جو حضرت دحیہ کلبی ؓ کے حصے میں آئیں۔ پھر وہ نبی ﷺ کے حصے میں آ گئیں، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی آزادی کو حق ...

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الزَّكَاةِ

صحیح

2499. وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ زَيْدُ الْخَيْرِ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ، أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ وَقَالَ: نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، كَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَقَالَ: إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ «لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ...

صحیح مسلم:

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

2499.

عمارہ بن قعقاع کے ایک دوسرے شاگرد ابن فضیل نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا: (رسول اللہ ﷺ نے خام سونا) چار افراد: زید الخیل، اقرع بن حابس،عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل میں (تقسیم کیا۔) اور عبدالواحد کی روایت کی طرح ’’ابھری ہوئی پیشانی والا‘‘ کہا اور انھوں نے ’’اس کی اصل سے (جس سے اس کا تعلق ہے) ایک قوم نکلے گی‘‘ کے الفاظ بیان کیے اور لئن ادركت لاقتلنهم قتل ثمود (اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے) کے الفاظ ذکر نہی...

7 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجِهَادِ

صحیح

2725. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَامِ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا، كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ فَاسْتَدَرْتُ لَهُ، حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: جہاد کے مسائل

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

2725.

سیدنا ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں حنین کی طرف روانہ ہوئے۔ جب کفار کے مقابلے میں آئے، تو مسلمانوں میں بہت گڑبڑ مچی۔ میں نے ایک کافر کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھائی کر رہا تھا۔ میں گھوم کر اس کے پیچھے سے آیا اور اس کی گردن کے پاس تلوار ماری، تو وہ میری طرف آیا اور مجھے (پکڑ کر) اس قدر بھینچا کہ میں نے اس سے موت کی بو پائی۔ پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے ملا اور ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ (کہ بھاگ کھڑے ہوئے ہیں) انہوں نے کہا: بس یہ ﷲ کا کرنا ہے۔ پھر لوگ لوٹ آئے۔ رسول اللہ ﷺ بیٹھے اور فرم...