صحیح بخاری صحیح مسلم سنن ابو داؤد جامع ترمذی سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند احمد صحيح البخاري صحيح مسلم سنن أبي داؤد جامع الترمذي سنن النسائي سنن ابن ماجه مُسند أحمد 10 نتائج حاصل کریں 25 نتائج حاصل کریں 50 نتائج حاصل کریں 100 نتائج حاصل کریں مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 7 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 7 1 صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 494. وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي طَرَفِ تَلْعَةٍ مِنْ وَرَاءِ العَرْجِ، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى هَضْبَةٍ عِنْدَ ذَلِكَ المَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلاَثَةٌ، عَلَى القُبُورِ رَضَمٌ مِنْ حِجَارَةٍ، عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ عِنْدَ سَلَمَاتِ الطَّرِيقِ بَيْنَ أُولَئِكَ السَّلَمَاتِ» كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ العَرْجِ، بَعْدَ أَنْ تَمِيلَ الشَّمْسُ بِالهَاجِرَةِ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ فِي ذَلِكَ المَسْجِدِ... صحیح بخاری: کتاب: نماز کے احکام و مسائل () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 494. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس ٹیلے کے کنارے پر بھی نماز پڑھی جہاں سے پانی اترتا ہے۔ یہ مقام ہضبہ کو جاتے ہوئے عرج کے پیچھے واقع ہے۔ اس مسجد کے پاس دو یا تین قبریں ہیں، ان پر اوپر تلے پتھر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ راستے سے دائیں جانب ان بڑے پتھروں کے پاس ہے جو راستے پر واقع ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ دوپہر کو زوال کے بعد عرج سے ان بڑے پتھروں کے درمیان چلتے، پھر ظہر کی نماز اس مسجد میں ادا کرتے۔... 2 صحيح البخاري: کِتَابُ العِيدَيْنِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 972. و أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى صحیح بخاری: کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 972. حضرت عطاء سے روایت ہے، وہ حضرت ابن عباس اور حضرت جابر رضی اللہ عنھم سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی۔ 3 صحيح البخاري: کِتَابُ العِيدَيْنِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 973. وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ بَعْدُ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَتَرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ فَيُذَكِّرَهُنَّ حِينَ يَفْرُغُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ أَنْ لَا يَفْعَلُو... صحیح بخاری: کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 973. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے، پہلے نماز پڑھی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ جب نبی ﷺ خطبے سے فارغ ہوئے تو اتر کر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت فرمائی جبکہ آپ نے حضرت بلال ؓ کے ہاتھ کا سہارا لیا ہوا تھا اور بلال اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، عورتیں اس میں اپنے صدقات ڈال رہی تھیں۔ (راوی حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے حضرت عطاء سے کہا کہ اب بھی آپ امام کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ان کی ذمہ داری تو ہے لیکن اب انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پ... 4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ حکم : صحیح 501. وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لِكَعْبِ الْأَحْبَارِ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَالَ كَعْبٌ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «نَعَمْ».... صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان () مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام) 501. یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے کعب احبار سے کہا، بلاشبہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ہر نبی کی ایک (یقینی) دعا ہے جو وہ کرتا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں۔‘‘ اس پر کعب نےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے پوچھا: آپ نے یہ فرمان (براہ راست ) رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا؟ ابو ہریرہ ؓ نے جواب دیا: ہاں!۔... 5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ حکم : صحیح 501. وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لِكَعْبِ الْأَحْبَارِ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَالَ كَعْبٌ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «نَعَمْ».... صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان () مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام) 501. یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے کعب احبار سے کہا، بلاشبہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ہر نبی کی ایک (یقینی) دعا ہے جو وہ کرتا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں۔‘‘ اس پر کعب نےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے پوچھا: آپ نے یہ فرمان (براہ راست ) رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا؟ ابو ہریرہ ؓ نے جواب دیا: ہاں!۔... 6 سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّتْرَةِ حکم : صحیح 687. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ... سنن ابو داؤد: کتاب: سترے کے احکام ومسائل () مترجم: ١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام) 687. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب عید پڑھنے کے لیے نکلتے تو حکم دیتے کہ نیزہ ساتھ لے لیا جائے۔ اسے آپ ﷺ کے آگے گاڑ دیا جاتا پھر آپ ﷺ اس کی طرف نماز پڑھتے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے ہوتے۔ سفر میں بھی آپ ﷺ کا یہ معمول ہوتا تھا۔ چنانچہ امراء نے یہیں سے یہ عمل اخذ کیا ہے۔ 7 سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا حکم : صحیح 1305. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ... سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ () مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام) 1305. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو نمازوں، یعنی فجر کے بعد سورج کے طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک کے پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 7 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 7