صحیح بخاری صحیح مسلم سنن ابو داؤد جامع ترمذی سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند احمد صحيح البخاري صحيح مسلم سنن أبي داؤد جامع الترمذي سنن النسائي سنن ابن ماجه مُسند أحمد 10 نتائج حاصل کریں 25 نتائج حاصل کریں 50 نتائج حاصل کریں 100 نتائج حاصل کریں مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 5 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 5 1 صحيح البخاري: کِتَابُ المُحْصَرِ حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 1832. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوْ انْسُكْ بِشَاةٍ... صحیح بخاری: کتاب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 1832. حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’شاید تمھاری جوئیں تمھیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول اللہ ﷺ !نے فرمایا: ’’اپنا سر منڈوا دو، پھر تین دن کے روزے رکھویا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری ذبح کرو۔‘‘... 2 صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 4295. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ فَقَالَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ... صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں () مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 4295. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھم کی شہادت کی خبر اس وقت اپنے صحابہ کرام کو دی جب ان کے متعلق دیگر ذرائع سے کوئی اطلاع نہیں آئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’زید نے اسلامی جھنڈا اٹھایا۔ وہ شہید کر دیے گئے تو پھر جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا۔ وہ بھی جام شہادت نوش کر چکے تو پھر ابن رواحہ ؓ نے جھنڈا اٹھا لیا۔ وہ بھی شہید کر دیے گئے۔ اس دوران میں آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ حتی کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار(خالد بن ولید ؓ) نے جھنڈا پکڑ لیا۔ پھر اللہ نے اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔‘&lsq... 3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ حکم : صحیح 1354. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. صحیح مسلم: کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں () مترجم: ١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام) 1354. طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) نے اپنے والد طاؤس سے، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کی مانند روایت کی۔ 4 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حکم : صحیح 809. حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْبَغْدَادِيُّ الْوَرَّاقُ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ قَال سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْوُضُوءِ قَالَ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ كَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ السُّعُوطَ لِلصَّائِمِ وَرَأَوْا أَنَّ ذَلِكَ يُفْطِرُهُ وَفِي الْبَابِ مَا يُقَوِّي قَوْلَهُمْ... جامع ترمذی: كتاب: روزے کے احکام ومسائل () مترجم: ٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي) 809. لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ’’کامل طریقے سے وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی سُرکنے میں مبالغہ کرو، إلا یہ کہ تم روزے سے ہو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲- اہل علم نے صائم کے لیے ناک میں پانی سُرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔۳- اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے۔... 5 سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ حکم : صحیح 2876. أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ سنن نسائی: کتاب: مواقیت کا بیان () مترجم: ١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام) 2876. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا۔ مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 5 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 5