1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

67. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي المَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ، قَالَ: فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا: فَرَأَى فُرْجَةً فِي الحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الآخَرُ: فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمّ...

صحیح بخاری:

کتاب: علم کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

67.

حضرت ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں لوگوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں تین آدمی آئے۔ ان میں سے دو تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گئے اور ایک واپس چلا گیا۔ راوی نے کہا کہ وہ دونوں کچھ دیر رسول اللہ ﷺ کے پاس ٹھہرے رہے۔ ان میں سے ایک نے حلقے میں گنجائش دیکھی تو بیٹھ گیا اور دوسرا سب سے پیچھے بیٹھ گیا، تیسرا تو واپس ہی جا چکا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ (وعظ سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ان تینوں آدمیوں کا حال نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کی طرف پناہ لی تو اللہ نے بھی اسے اپنی طرف جگہ دے دی اور دوسرا شرمایا تو اللہ نے بھ...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1741. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِمَا أَهْلَلْتَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتَ انْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1741.

حضرت ابوموسیٰ اشعری  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہواجب آپ وادی بطحاء میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے دریافت کیا: ’’آیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا : ’’تونے احرام کیسا باندھا؟‘‘  میں نے عرض کیا: نبی ﷺ کے احرام جیسا احرام باندھا تھا۔ آپ نے فرمایا’’تو نے اچھا کیا۔ اب جاؤ بیت اللہ کا طواف کرو اور صفاو مروہ کی سعی کرو۔‘‘ (اس سے فراغت کے بعد)پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا تو اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ ...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِزْيَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3197. حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ العَلاَءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: مَوْتِي، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ المَقْدِسِ، ثُمَّ مُوْتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ المَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لاَ يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ العَرَبِ إِلَّا...

صحیح بخاری:

کتاب: جزیہ وغیرہ کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3197.

حضرت عوف بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ’’قیامت سے پہلے چھ نشانیاں (ہوں گی انھیں) شمار کرلو: ایک تو میری وفات، دوسری فتح بیت المقدس، تیسری وبا تم میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں کی بیماری قعاص پھیلتی ہے۔ چوتھی مال کی اس قدر فراوانی کہ اگر کسی کو سو اشرفیاں دی جائیں گی تو بھی خوش نہیں ہوگا۔ پانچویں ایک فتنہ جس سے عرب کاکوئی گھر نہیں بچے گا۔ چھٹی نشانی وہ صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہو گی۔ وہ بے وفائی کریں گے اور اسی جھنڈے لے کر تم ...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4406. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدٍ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4406.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مسیلمہ کذاب نبی ﷺ کے عہد مبارک میں (مدینہ طیبہ) آیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر محمد ﷺ مجھے اپنا خلیفہ نامزد کر دیں تو میں آپ کا فرمانبردار ہو جاؤں گا۔ اور وہ اپنی قوم کے بیشتر لوگوں کو بھی ساتھ لایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس ؓ تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اگر تو مجھ سے یہ چھڑی مانگے تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا۔ اور اللہ تعالٰی نے جو کچھ تیری تقدیر میں لکھ دیا ہے تو ...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4662. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ قَالَ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ قَالَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَهْوَنُ أَوْ هَذَا أَيْسَرُ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4662.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: "کہہ دیجیے: وہ قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے۔" تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: ’’یا اللہ! میں تیری ذات کے وسیلے سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’یا تمہارے نیچے سے عذاب آ جائے۔‘‘ تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: ’’اے اللہ! میں تیری ذات کے ذریعے سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے باہم دست و گر...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5550. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ، فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلُوهَا»...

صحیح بخاری:

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5550.

سیدنا معاذ بن سعد یاسعد بن معاذ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ سیدنا کعب بن مالک ؓ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہوئی تو اس نے (مرنے سے پہلے) اسے پتھر سے ذبح کر دیا، پھر نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے کھاؤ۔“

...

7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّعْبِيرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7078. حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ح و حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ وَوَسَطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِي ارْقَهْ قُلْتُ لَا أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي وَصِيفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي فَرَقِيتُ فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ فَانْتَبَهْتُ وَأَنَا مُسْتَمْسِكٌ بِهَا فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تِلْكَ الرَّوْضَةُ رَوْضَةُ الْإِسْلَامِ وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْ...

صحیح بخاری:

کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7078.

حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے درمیان ایک ستون ہے اور ستون کے اوپر ایک کڑا ہے۔ مجھے کہا گیا: اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا: مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے۔ اس دوران میں میرے پاس ایک خادم آیا۔ اس نے میرے کپڑے اٹھائے تو میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے کڑے کو پکڑ لیا۔ میں اسے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے یہ خواب نبی ﷺ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ باغ، اسلام کا باغ تھا، وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ ”حلقہ عروہ وثقیٰ“ تھا۔ تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں ...

8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7447. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ وَهُوَ يَقُولُ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ وَهُوَ يَقُولُ لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7447.

سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اگر کوئی تم سے یہ کہے کہ سیدنا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے جھوٹ بولا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”نظریں اسے نہیں دیکھ سکتیں“ اور جو تجھے یہ کہے کہ آپﷺ غیب جانتے تھے تو اس نے بھی غلط کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔

...

9 صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا

صحیح

1679. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا نَقُولُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ أَرْبَعًا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1679.

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی۔ انھوں نے حفص بن عاصم سے اور انھوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جب صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی جا چکی تھی آپﷺ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیرلیا ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا کہا؟ اس نے بتایا: آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا...

10 صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا

صحیح

1679. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا نَقُولُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ أَرْبَعًا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1679.

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی۔ انھوں نے حفص بن عاصم سے اور انھوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جب صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی جا چکی تھی آپﷺ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیرلیا ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا کہا؟ اس نے بتایا: آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا...