2 صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ اسْتِحْبَابِ صَلَاةِ الضُّحَى، وَأَنَّ أَقَل...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

718. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

(باب: نماز چاشت کا استحباب ‘یہ کم از کم دو رکعتیں ‘...)

718.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے کبھی ر سول اللہ ﷺ کو (گھر میں قیام کے دوران میں) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے۔ لیکن اس ڈر سے کہ لوگ (بھی آپ کو دیکھ کر) وہ کام کریں گےاور (ان کی د لچسپی کی بناء پر) وہ کام ان پر فرض کردیا جائے گا،آپ ﷺ اس کام کو چھوڑ دیتے تھے۔

...

3 سنن أبي داؤد: كِتَابُ التَّطَوُّعِ (بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى)

صحيح م الشطر الأول منه

1292. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: لَا,إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ! قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ. ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

(باب: نماز چاشت کے احکام و مسائل)

1292.

جناب عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے پوچھا، کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ کہا نہیں، الا یہ کہ سفر سے تشریف لاتے۔ میں نے پوچھا، کیا رسول اللہ ﷺ سورتیں ملا کر پڑھ لیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ مفصل میں سے (یعنی آخری منزل کی سورتوں میں سے)۔

4 سنن أبي داؤد: كِتَابُ التَّطَوُّعِ (بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى)

صحیح

1293. حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ,خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ. ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

(باب: نماز چاشت کے احکام و مسائل)

1293.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ ز‬وجہ نبی کریم ﷺ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ضحیٰ کے نفل کبھی نہیں پڑھے، میں البتہ پڑھتی ہوں۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کچھ عمل کرنا چاہتے مگر چھوڑ دیتے تھے، کہ لوگ عمل کریں گے تو کہیں ان پر فرض نہ کر دیا جائے۔