1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ : «يُعَذَّبُ المَيِّتُ ب...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1286. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ، وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا - أَوْ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، ثُمَّ جَاءَ الآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ: أَلاَ تَنْهَى عَنِ البُكَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ المَيّ...

صحیح بخاری:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(

باب: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھ...)

1286.

حضرت عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:حضرت عثمان ؓ  کی ایک صاحبزادی مکہ مکرمہ میں فوت ہوگئی تو ہم ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر اورحضرت عبداللہ بن عباس ؓ  بھی وہاں موجود تھے۔ اور میں ان کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، یا کہا: میں ان میں سے کسی ایک کے پاس بیٹھا تھا، پھر دوسرے صاحب تشریف لائے اور وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ  نے حضرت عمرو بن عثمان ؓ  سے کہا: (ان عورتوں کو) رونے سے منع کیوں نہیں کرتے ہو؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’میت کو اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی ...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النِّيَاحَةِ عَلَى المَيِّ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1292. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ...

صحیح بخاری:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(

باب: میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے

)

1292.

حضرت ابن عمر ؓ  سے روایت ہے ،وہ اپنے والد محترم حضرت عمر ؓ  سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا:’’میت کو اپنی قبر میں اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘ عبدان کی عبدالاعلیٰ نے متابعت کی ہے اور آدم ؑ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ بیان کیے:’’میت کو زندوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتا ہے۔‘‘

...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

927. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

927.

نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘

...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

927. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

927.

نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘

...

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

927. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

927.

نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘

...

6 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

927. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

927.

نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘

...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

927. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

927.

نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘

...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

927. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

927.

نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘

...

9 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

927. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

927.

نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘

...

10 صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَ...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

928. حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا فَإِذَا صَوْتٌ مِنْ الدَّارِ ...

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ...)

928.

ایوب نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روا یت کی، انھوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے کا انتظار کر رہے تھے جبکہ عمرو بن عثمان بھی ان کے پاس تھے اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما آئے انھیں لے کر آنے والا ایک آدمی لایا میرے خیال میں اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بیٹھنے کی جگہ کے بارے میں بتایا تو وہ آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گئے میں ان دونوں کے درمیان میں تھا اچانک گھر (کے اندر) سے (رونے کی) آواز آئی۔<...