1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

890. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَمَا هُوَ قَائِمٌ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ قَالَ إِنِّي شُغِلْتُ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ التَّأْذِينَ فَلَمْ أَزِدْ أَنْ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ ر...

صحیح بخاری:

کتاب: جمعہ کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

890.

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک نبی ﷺ کے صحابہ کرام اور مہاجرین اولین میں سے ایک صاحب آئے حضرت عمر ؓ نے آواز دی کہ یہ کون سا آنے کا وقت ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں ایک ضرورت کی وجہ سے مصروف ہو گیا۔ ابھی اپنے گھر واپس نہیں جا سکا تھا کہ اذان کی آواز سن لی تو صرف وضو کر سکا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: (ایک لیٹ آئے ہو اور پھر) صرف وضو کر کے آئے ہو؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسل کا حکم دیتے تھے۔

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3100. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ مُجَاشِعٌ بِأَخِيهِ مُجَالِدِ بْنِ مَسْعُودٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا مُجَالِدٌ يُبَايِعُكَ عَلَى الهِجْرَةِ، فَقَالَ: «لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلاَمِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3100.

حضرت مجاشع بن مسعود  ؓسے روایت ہے کہ وہ اپنے بھائی حضرت مجالد بن مسعود  ؓ کو ساتھ لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ مجالد ہیں اور آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’فتح مکہ کے بعد تو ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ دین اسلام پر (استقامت کی) بیعت ان سے لے لیتا ہوں۔‘‘

...

3 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3774. حَدَّثَنَا صَدَقَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى عَنْ الْحَسَنِ سَمِعَ أَبَا بَكْرَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ إِلَى جَنْبِهِ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ مَرَّةً وَإِلَيْهِ مَرَّةً وَيَقُولُ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ...

صحیح بخاری:

کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3774.

حضرت ابو بکرہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا۔ جبکہ حضرت حسن  ؓ  آپ کے پہلو میں تھے۔ آپ ایک بار لوگوں کو دیکھتے دوسری مرتبہ حضرت حسن  ؓ کی طرف نظر کرکے فرماتے: ’’میرا یہ بیٹا(سردار)ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے باعث مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4435. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَلَا نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ وَقَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّ ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4435.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حجۃ الوداع کے متعلق گفتگو کرتے تھے جبکہ نبی ﷺ ہم میں موجود تھے۔ لیکن ہم نہیں سمجھتے تھے کہ حجۃ الوداع کا مفہوم کیا ہے؟ پھر آپ ﷺ نے ایک دن اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، پھر مسیح دجال کا تفصیل سے ذکر کیا اور فرمایا: ’’اللہ تعالٰی نے جتنے بھی انبیاء مبعوث کیے ہیں سب نے اپنی اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے۔ الغرض حضرت نوح ؑ نے اپنی امت کو اس سے خبردار کیا اور دوسرے انبیاء ؑ نے بھی اس سے متنبہ کیا۔ اس کا ظہور تم ہی میں ہو گا جس کا حال تم پر پوشیدہ نہیں رہے گا، لہذا یہ بات تم پر پوشیدہ نہ رہے کہ تمہارا رب ا...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4436. أَلَا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثًا وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ انْظُرُوا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4436.

حضرات خبردار! بےشک اللہ تعالٰی نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال اس طرح حرام کر رکھے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں ہے۔ ’’خبردار! کیا میں نے تمہیں احکام شریعت پہنچ دیے ہیں؟‘‘ سب نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ’’اے اللہ! گواہ رہنا۔‘‘ یہ تین مرتبہ فرمایا۔ ’’افسوس! دیکھنا میرے بعد پھر کافروں جیسے کام نہ شروع کر دینا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔‘‘

...

8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4440. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْيَهُودِ قَالُوا لَوْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا فَقَالَ عُمَرُ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالُوا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ مَكَانٍ أُنْزِلَتْ أُنْزِلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4440.

حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ چند یہودیوں نے کہا: اگر یہ آیت کریمہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: وہ کون سی آیت کریمہ ہے؟ انہوں نے کہا: ’’آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کر لیا۔‘‘ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں جانتا ہوں یہ آیت کس مقام پر نازل ہوئی! یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ عرفہ میں تشریف فرما تھے۔

...

9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4446. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4446.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ گدھی پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں کھڑے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ گدھی صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزری۔ پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں شامل ہو گئے۔

10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4449. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ لَهُمْ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ وَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ مَخَافَةِ أ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4449.

حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دوستوں نے، جو جیش عسرت، یعنی غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جانے والے تھے، آپ کے پاس سواریوں کے لیے بھیجا۔ میں نے آ کر خدمت میں بھیجا ہے کہ آپ انہیں سواریاں مہیا کریں۔ آپ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں تمہیں کوئی سواری دینے والا نہیں۔‘‘ اتفاق سے آپ اس وقت غصے میں تھے لیکن مجھے معلوم نہ تھا۔ میں بہت رنجیدہ ہو کر واپس لوٹا۔ مجھے ایک رنج تو یہ تھا کہ نبی ﷺ نے سواریاں نہیں دیں اور دوسرا یہ رنج تھا کہ کہیں نبی ﷺ میرے سواری مانگنے پر ناراض نہ ہو گئے ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آ...