1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1400. حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ وَقَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالَتْ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ قَالَ أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبٍ عَلَيْهِ كَانَ يُمَرَّضُ فِيهِ بِهِ رَدْعٌ مِنْ ز...

صحیح بخاری:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1400.

حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے ،انھوں نےفرمایا:میں حضرت ابو بکر ؓ  کے پاس حاضر ہوئی تو انھوں نے فرمایا:تم نے نبی کریم ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟میں نے جواب دیا:تین سحولی چادروں میں، جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ ہی تھا۔ پھر انھوں نے فرمایا:نبی کریم ﷺ نے کس روز وفات پائی تھی؟ حضرت عائشہ ؓ  نے کہا:پیر کے دن۔ ابو بکر ؓ  نے فرمایا:آج کون سا دن ہے؟انھوں نے جواب دیا:آج پیر کا دن ہے۔ حضرت ابو بکر ؓ  نے فرمایا:میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت سے لے کر رات تک وفات پاجاؤں گا۔ پھر انھوں نے اپنے کپڑے کی طرف دیکھا جس میں وہ بیمار ہوئے تھے اور اس میں ا...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7285. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ الْآخِرَةَ حِينَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَذَلِكَ الْغَدَ مِنْ يَوْمٍ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ وَأَبُو بَكْرٍ صَامِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ قَالَ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكُونَ آخِرَهُمْ فَإِنْ يَكُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نُورًا تَهْتَ...

صحیح بخاری:

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7285.

سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا عمر کا دوسرا خطبہ سنا جب آپ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ نبی ﷺ کی وفات کے دوسرے دن کا ہے۔ سیدنا عمر نے خطبہ پڑھا جبکہ سیدنا ابو بکر ؓ خاموش تھے اور کوئی بات نہ کرتے تھے پھر سیدنا عمر نے کہا: مجھے امید تھی کہ رسول اللہ ﷺ زندہ رہیں گے اور ہمارے کاموں کی تدبیر و انتظام کرتے رہیں گے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ سیدنا محمد ﷺ ان سب سے آخر میں وفات پائیں گے۔ اگر محمد ﷺ وفات پا چکے ہیں تو بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے نور(قرآن) کو باقی رکھا ہے جس کے ذریعے سے تم ہدایت حاصل کرتے رہو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے سے سیدنا محم...

5 سنن أبي داؤد: كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ

ضعیف

1556. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ أَخْبَرَنَا غَسَّانُ بْنُ عَوْفٍ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ يَا أَبَا أُمَامَةَ مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ قَالَ هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ ...

سنن ابو داؤد: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل ()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

1556.

سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز مسجد میں تشریف لائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی ہے جس کا نام ابو امامہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوامامہ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مسجد میں دیکھ رہا ہوں اور نماز کا وقت بھی نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے غموں اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں، اگر تم انہیں پڑھنے لگو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے غم دور کر دے گا اور تمہارے قرضے ادا کر دے گا۔“ (ادا کرنے کا سبب پیدا فرما دے گا۔) میں نے کہا، کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!...

6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

2607. حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ح و حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا النَّجَاةُ قَالَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ...

جامع ترمذی:

كتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

2607.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھرکی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو‘‘۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

7 سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ

حسن الإسناد

2443. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْيِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا قَالَ بِالْإِسْلَامِ قُلْتُ وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ قَالَ أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ...

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

2443.

حضرت بہز بن حکیم کے دادا سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے (اسلام لاتے وقت) کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے یہاں اپ کے پاس آنے سے پہلے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد (یعنی دس) سے بھی زیادہ دفعہ قسم کھائی تھی کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ (لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے تو حاضر ہوگیا ہوں)۔ میں بے سمجھ آدمی ہوں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں مگر جو اللہ عزوجل اور اس کا رسول مجھے سکھائیں گے۔ میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے واسطے سے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا دے کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام دے کر۔“ می...

9 سنن النسائي: كِتَابُ الْجِهَادِ

صحیح الإسناد

3092. أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ فَنَزَلَتْ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ...

سنن نسائی: کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل ()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

3092.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے نکالے گئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: ان لوگوں (مشرکین مکہ) نے اپنے نبی کو نکال دیا: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اب یہ لوگ ضرور تباہ وبرباد ہوں گے، پھر یہ آیت اتری: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ……عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ”جن لوگوں سے بلاوجہ لڑائی کی جاتی ہے، انہیں بھی لڑنے (جہاد) کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔“ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: مجھے یقین ...

10 سنن النسائي: كِتَابُ الْجِهَادِ

صحیح الإسناد

3093. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَأَصْحَابًا لَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً فَقَالَ إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ ك...

سنن نسائی: کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل ()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

3093.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے کچھ ساتھی مکہ مکرمہ میں نبیﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم کافر مشرک تھے تو عزت والے تھے‘ جب ہم مسلمان ہوئے تو ذلیل ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: ”(فی الحال) مجھے معاف اور درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم لڑائی نہ کرو۔“ پھر جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں لڑنے کا حکم دیا، لیکن بعض مسلمان لڑائی سے رکے رہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ﴾ &rdqu...