1 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَيْضِ (بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

345. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ. فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ: «لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أَقْحَطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ» وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ...

صحیح مسلم:

کتاب: حیض کا معنی و مفہوم

(باب: پانی ( سے غسل) صرف (منی کے ) پانی ( کی وجہ ) ...)

345.

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی اور ابن بشار نےمحمد بن جعفر غندر سے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے حکم کے حوالے سے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری آدمی کے (مکان کے) پاس سے گزرے تو اسے بلوایا، وہ اس حال میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈالا۔‘‘ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ نے فرمایا: ’’جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تم انزال نہ کر سکو تو تم پر غسل لازم نہیں ہے، البتہ وضو ضروری ہے۔‘‘ اب...

2 سنن ابن ماجه: کِتَابُ التَّيَمَُ (بَابُ الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ)

صحيح منسوخ

606. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ فَقَالَ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: تیمم کے احکام ومسائل (باب: انزال سے غسل واجب ہوتا ہے)

606.

حضرت  ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری صحابی کے پاس گئے اور اسے بلوایا۔ وہ (گھر سے) نکلا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈال دیا؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ’’جب تجھے (کسی وجہ سے) جلدی پڑ جائے (اور تجھے فارغ ہونے سے پہلے پیچھے ہٹنا پڑے) یا تجھے انزال نہ ہو تو تجھ پر غسل فرض نہیں، صرف وضو کرنا ضروری ہے۔‘‘

...