2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1568. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ حَمِدَ اللَّهَ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1568.

حضرت انس ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہرکی چار رکعات پڑھیں جبکہ ہم لوگ آپ کے ساتھ تھے، پھر ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعات پڑھ کر رات وہیں قیام فرمایا۔ صبح کے وقت وہیں سے سوار ہوئے، جب سواری میدان بیداء میں پہنچی تو آپ نےالحمدللہ، سبحان اللہ اور اللہ أکبرکہا۔ پھر آپ نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے لبیک کہا اور لوگوں نے بھی حج اور عمرہ دونوں کے لیے لبیک کہا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو (عمرے سے فراغت کے بعد) آپ نے لوگوں کو(احرام کھولنے ک...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1570. وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، إِذَا صَلَّى بِالْغَدَاةِ بِذِي الحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ رَكِبَ، فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ قَائِمًا، ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَبْلُغَ الحَرَمَ، ثُمَّ يُمْسِكُ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِذَا صَلَّى الغَدَاةَ اغْتَسَلَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ، تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ فِي الغَسْلِ ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1570.

حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ جب ابن عمر ؓ  ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیتے، چنانچہ وہ تیار کردی جاتی تو اس پرسوار ہوتے۔ جب وہ سیدھی کھڑی ہوجاتی تو قبلہ روہوکر تلبیہ کہتے حتیٰ کہ حرم پہنچ جاتے۔ پھر تلبیہ موقوف کردیتے۔ پھر جب مقام ذی طوی پہنچتے تو وہاں رات بسر کرتے حتیٰ کہ صبح ہوجاتی۔ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو وہیں غسل کرتے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی کیاہے۔ اسماعیل نے ایوب سے غسل کی روایت کرنے میں عبدالوارث کی متابعت کی ہے۔

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4352. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4352.

 

حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’میرے ساتھ میرے صحابہ کرام بھی ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ تم دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کر لو: قیدی لے لو یا مال واپس لے جاؤ۔ میں نے تمہارا انتظار کیا تھا۔‘‘ واقعی ...

7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7230. وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي العَطَاءَ، فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْهُ، فَتَمَوَّلْهُ، وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا المَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَالاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ»...

صحیح بخاری:

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7230.

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عمر ؓ سے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ مجھے کچھ مال عطا کرتے تو میں کہتا: آپ یہ اسے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ آپ نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا تو میں نے کہا: آپ یہ مال اس شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے لو اور اس کا مالک بننے کے بعد اسے صدقہ کردو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہش مند نہ ہو اور نہ تم نے مانگا ہوتو اسے لے لیا کرو جو اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو،“

...

8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7367. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تَرَخَّصَ فِيهِ وَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنْ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ فَوَاللَّهِ إِنِّي أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً...

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھنا

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7367.

سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے کوئی کام کیا جس میں لوگوں کے لیے رخصت کاپہلو تھا۔ اس کے باوجود کچھ لوگوں نے اس سے احتزاز کیا۔ نبی ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی، پھر فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو ایسی چیز سے پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں ایسے تمام لوگوں سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ جانتا ہوں اور ان سے زیادہ اپنے اندر خشیت رکھتا ہوں۔“ 

...