1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: جَعَلَ اللَّهُ الْك...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1592. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانُوا يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ وَكَانَ يَوْمًا تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ فَلَمَّا فَرَضَ اللَّهُ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْ...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

(باب: اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا اللہ ن...)

1592.

حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ لوگ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اس روز کعبہ شریف کو غلاف پہنایاجاتا تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کردیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اب جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔‘‘

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1893. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ...

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

(

باب : رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان

)

1893.

حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’’جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔‘‘

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2002. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

(

باب : اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا...)

2002.

حضرت عائشہ  ؓ ہی سے روایت ہے انھوں نے فرمایاکہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ بھی نبوت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو خود بھی روزہ رکھا اوردوسروں کوبھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیالیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔ اب جو چاہے اس دن روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔

...

4 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ أَيَّامِ الجَاهِلِيَّةِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3831. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَا يَصُومُهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: انصار کے مناقب

(

باب: جاہلیت کے زمانے کا بیان

)

3831.

حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عاشوراء کے روز زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھتے تھے۔ نبی ﷺ نے بھی اس دن روزہ رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو بھی عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو جو چاہتا عاشوراء کا روزہ رکھتا، جو چاہتا نہ رکھتا۔

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُت...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4504. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ الْفَرِيضَةَ وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

(

باب: آیت (( یٰایھا الذین اٰٰمنوا کتب علیکم الصی...)

4504.

حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: دور جاہلیت میں قریش عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور نبی ﷺ بھی (ملتِ ابراہیم کی پیروی میں) اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو بھی اس دن کے روزے کو برقرار رکھا بلکہ اپنے صحابہ کو اس دن روزہ رکھنے کا پابند کیا۔ پھر جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو رمضان کے روزے فرض ہو گئے اور عاشوراء کی فرضیت ترک کر دی گئی، پھر جس کا دل چاہتا روزہ رکھتا اور جس کا جی نہ چاہتا روزہ نہ رکھتا۔

...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1125. حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»...

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

(باب: عاشورہ کے دن کا روزہ)

1125.

جریر نے ہشام بن عروۃ (زبیر) سے، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہا: جاہلیت (کے ایام) میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آ گئےتو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور روزہ کے رکھنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد رمضان کا مہینہ فرض (روزوں کے لیے متعین) کردیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جو چاہے اس (عاشورہ) کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔‘‘

 

...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1125. حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»...

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

(باب: عاشورہ کے دن کا روزہ)

1125.

جریر نے ہشام بن عروۃ (زبیر) سے، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہا: جاہلیت (کے ایام) میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آ گئےتو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور روزہ کے رکھنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد رمضان کا مہینہ فرض (روزوں کے لیے متعین) کردیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جو چاہے اس (عاشورہ) کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔‘‘

 

...

9 صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1125. حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»...

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

(باب: عاشورہ کے دن کا روزہ)

1125.

جریر نے ہشام بن عروۃ (زبیر) سے، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہا: جاہلیت (کے ایام) میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آ گئےتو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور روزہ کے رکھنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد رمضان کا مہینہ فرض (روزوں کے لیے متعین) کردیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جو چاہے اس (عاشورہ) کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔‘‘

 

...

10 صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1125. حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»...

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

(باب: عاشورہ کے دن کا روزہ)

1125.

جریر نے ہشام بن عروۃ (زبیر) سے، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہا: جاہلیت (کے ایام) میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آ گئےتو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور روزہ کے رکھنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد رمضان کا مہینہ فرض (روزوں کے لیے متعین) کردیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جو چاہے اس (عاشورہ) کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔‘‘

 

...