1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المُسَاقَاةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2375. حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ فَجَاءَ الْأَشْعَثُ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي فَقَالَ لِي شُهُودَكَ قُلْتُ مَا لِي شُهُودٌ قَالَ فَيَمِينُهُ قُلْت...

صحیح بخاری:

کتاب: مساقات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2375.

حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے کوئی قسم اٹھائی جبکہ وہ اس میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی جھوٹی قسموں کے عوض تھوڑا سا دنیوی مال حاصل کرلیتے ہیں (تو ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا)۔‘‘ اس کے بعد حضرت اشعث بن قیس  ؓ آئے تو انھوں ن...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3091. حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ، فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَهْلَ الخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُؤْرًا، فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ»...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3091.

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے (غزوہ خندق کے وقت)عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! میں نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا پیسا ہے، لہٰذا آپ خود اور مزید کچھ ساتھی تشریف لے چلیں۔ نبی ﷺ نے بآواز بلند فرمایا: ”اے اہل خندق!آج جابر ؓ نے تمھارے لیے ضیافت تیار کی ہے، آؤ جلدی چلیں۔“

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4003. حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَكَرَ قَتْلَهُ وَقَتْلَ ابْنِهِ فَقَالَ بِلَالٌ لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4003.

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے امیہ بن خلف سے ایک معاہدہ کیا تھا، اس کے بعد جب بدر کی جنگ ہوئی، پھر انہوں نے امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے کے قتل ہونے کا واقعہ ذکر کیا۔ اس دن بلال ؓ نے کہا: اگر آج امیہ (قتل ہونے سے) بچ گیا تو میں (آخرت کے عذاب سے) نجات نہیں پا سکوں گا۔

...

5 صحيح مسلم: کِتَابُ فَضَائِلِ القُرآنِ وَمَا يُتَعَلَّقُ بِهِ

صحیح

1979. و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَلِّ رَاكِبًا أَوْ قَائِمًا تُومِئُ إِيمَاءً...

صحیح مسلم:

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1979.

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے جنگ کے ایام میں سے ایک دن نماز خوف پڑھائی، ایک گروہ آپ ﷺ کے ساتھ نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ اور دوسرا دشمن کے بالمقابل۔ آپ ﷺ نے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر یہ لوگ(دشمن کے مقابلےمیں) چلے گئے اور دوسرے آ گئے، آپ ﷺ نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھا دی، پھر ان دونوں گروہوں نے (یکے بعد دیگرے) ایک ایک رکعت ادا کر لی۔ (نافع) نے کہا: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر خوف اس سے زیادہ ہو (اور صف بندی ممکن نہ ہو) تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشاارہ کرو اور نماز پڑھ لو۔

...

6 صحيح مسلم: کِتَابُ فَضَائِلِ القُرآنِ وَمَا يُتَعَلَّقُ بِهِ

صحیح

1979. و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَلِّ رَاكِبًا أَوْ قَائِمًا تُومِئُ إِيمَاءً...

صحیح مسلم:

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1979.

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے جنگ کے ایام میں سے ایک دن نماز خوف پڑھائی، ایک گروہ آپ ﷺ کے ساتھ نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ اور دوسرا دشمن کے بالمقابل۔ آپ ﷺ نے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر یہ لوگ(دشمن کے مقابلےمیں) چلے گئے اور دوسرے آ گئے، آپ ﷺ نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھا دی، پھر ان دونوں گروہوں نے (یکے بعد دیگرے) ایک ایک رکعت ادا کر لی۔ (نافع) نے کہا: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر خوف اس سے زیادہ ہو (اور صف بندی ممکن نہ ہو) تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشاارہ کرو اور نماز پڑھ لو۔

...

7 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ

صحیح

2986. حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنْ الْخُمُسِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ مِنْكَ وَاحِدَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّ...

سنن ابو داؤد:

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

2986.

=جناب سعید بن مسیب ؓ کا بیان ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ خمس اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کرتے تھے لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کے ان قرابت داروں کو اتنا نہ دیتے تھے جتنا رسول اللہ ﷺ دیا کرتے تھے ۔ چنانچہ سیدنا عمر ؓ اور ان کے بعد سیدنا عثمان ؓ ( بھی ) انہیں دیتے رہے ۔