1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوَصَايَا

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2765. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الفَتْحِ، أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ: أَخِي، وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ س...

صحیح بخاری:

کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2765.

نبی کریم ﷺ کی زوجہ محتر مہ ام المومنین حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص  ؓ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا فرزند میرے نطفے سے ہے، اسے اپنے قبضے میں لے لینا، چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاص  ؓ نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے۔ اس کے متعلق میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی۔ تب عبد بن زمعہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یہ تو میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنا جھگڑا لے کر حاضر ہوئے۔ حضرت سعد بن ابی...