1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

236. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ المِنْقَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ فِي الثَّوْبِ تُصِيبُهُ الجَنَابَةُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ، وَأَثَرُ الغَسْلِ فِيهِ» بُقَعُ المَاءِ...

صحیح بخاری:

کتاب: وضو کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

236.

عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے منی آلود کپڑے کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھو ڈالتی تھی، پھر آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے جبکہ دھونے کا نشان، یعنی پانی کے دھبے کپڑے پر باقی رہ جاتے۔

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5538. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «غَزَوْنَا جَيْشَ الخَبَطِ، وَأُمِّرَ أَبُوعُبَيْدَةَ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى البَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ يُرَ مِثْلُهُ، يُقَالُ لَهُ العَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ»...

صحیح بخاری:

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5538.

سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم غزوہ خبط میں شریک تھے جبکہ اس وقت ہمارے سپہ سالار سیدنا عبیدہ بن جراح ؓ تھے۔ ہم سب بھوک سے بے حال تھے کہ سمندر نے ایک مردہ مچھلی باہر پھینک دی۔ ایسی مچھلی ہم نے کبھی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا ہم نے مچھلی پندرہ دن تک کھائی۔ پھر سیدنا ابو عبیدہ ؓ نے اس کی ہڈی لے کر کھڑی کر دی تو وہ اتنی اونچی تھی کہ ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ 

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5539. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: «بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مِائَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الخَبَطَ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الخَبَطِ، وَأَلْقَى البَحْرُ حُوتًا يُقَالُ لَهُ العَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا بِوَدَكِهِ، حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا» قَالَ: «فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ، وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ، فَلَمَّا اشْتَدَّ الجُوعُ نَحَرَ ثَلاَثَ جَ...

صحیح بخاری:

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5539.

سیدنا جابر ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہمیں روانہ کیا اس لشکر میں تین سو سوار تھے۔ ہمارے امیر ابو عبیدہ بن جراح تھے ہمارا کام قریش کے تجارتی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا اس دوران میں ہمیں سخت بھوک لگی نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ہم نے درختوں کے پتے کھائے۔ اس بنا پر اس مہم کا نام ''جیش الخبط'' پڑ گیا تاہم سمندر نے ایک مچھلی باہر پھینکی جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے وہ مچھلی نصف ماہ تک کھائی اور اس کی چربی بطور مالش استعمال کرتے رہے جس سے ہمارے جسم طاقتور ہو گئے۔ پھر یمارے امیر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کی ہ...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5540. حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا، كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الجَرَادَ» قَالَ سُفْيَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَإِسْرَائِيلُ: عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى: «سَبْعَ غَزَوَاتٍ»...

صحیح بخاری:

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5540.

سیدنا ابن ابی اوفی‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر چھ یا سات جنگیں لڑیں ہم آپ کے ہمراہ ٹڈی کھایا کرتے تھے سفیان ابو عوانہ اور اسرائیل نے ابو یعفور سے بیان کیا اور ان سے ابن ابی اوفی ؓ نے ساتھ غزوات کے الفاظ بیان کیے ہیں۔

5 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ

صحیح

3841. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا...

سنن ابو داؤد:

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

3841.

سیدنا حذیفہ ؓ سے منقول ہے، راوی کا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: ”جس نے قبلے کی طرف تھوکا تو قیامت کے دن وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی آنکھوں کے درمیان لگا ہو گا، اور جس نے یہ ناپسندیدہ سبزی کھائی ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔

...

7 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

ضعیف

1798. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَزَعَمَ سَمُرَةُ أَنَّهُ صَنَعَ سَيْفَهُ عَلَى سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ حَنَفِيًّا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ فِي عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ...

جامع ترمذی: كتاب: جہاد کے احکام ومسائل ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

1798.

ابن سیرین کہتے ہیں: میں نے اپنی تلوارسمرہ بن جندب ؓ کی تلوار کی طرح بنائی ، اور سمرہ ؓ کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار رسول اللہ ﷺ کے تلوار کی طرح بنائی تھی اورآپ کی تلوار قبیلہ بنو حنیفہ کے طرز پر بنائی گئی تھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱۔ یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
۲۔ یحییٰ بن سعید قطان نے عثمان بن سعد کاتب کے سلسلے میں کلام کیا ہے اور حافظہ میں انہیں ضعیف قراردیاہے۔

...

8 سنن النسائي: كِتَابُ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ

صحیح

4258. أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: مَا عِنْدِي إِلَّا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ، قَالَ: «أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا؟» قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا»...

سنن نسائی: کتاب: فرع اور عتیرہ سے متعلق احکام و مسائل ()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

4258.

حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نبیﷺ نے غزوہ تبوک (کے سفر) میں ایک عورت کے پاس سے پانی منگوایا۔ وہ کہنے لگی: میرے پاس پانی تو ہے مگر مردار کے چمڑے سے بنے ہوئے مشکیزے میں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے اسے دباغت نہیں دی تھی؟ ”اس نے کہا: جی! دباغت تو دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تو دباغت (رنگنے) سے چمڑا پاک ہو جاتا ہے۔“

...