1 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ (بَابٌ: إِذَا أَهْدَى لِلْمُحْرِمِ حِمَارًا وَحْشِي...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1825. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ...

صحیح بخاری:

کتاب: شکار کے بدلے کا بیان

(باب : اگر کسی نے محرم کے لیے زندہ گورخر تحفہ بھیجا...)

1825.

حضرت صعب بن جثامہ لیثی  ؓ سے روایت ہے۔ انھوں نے ایک جنگلی گدھا رسول اللہ ﷺ کو بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس وقت آپ مقام ابواء یا مقام ودان میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے واپس کردیا لیکن آپ نے جب اس کے چہرےپر افسردگی دیکھی تو فرمایا: ’’ہم نے یہ اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔‘‘

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا (بَابُ قَبُولِ هَدِيَّةِ الصَّيْدِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2573. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ، قَالَ: «أَمَا إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ»...

صحیح بخاری:

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

(

باب : شکار کا تحفہ قبول کرنا

)

2573.

حضرت صعب بن جثامہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک گورخر بطور ہدیہ بھیجا جبکہ آپ ابواء یا ودان مقام میں تشریف فرماتھے۔ آپ نے اسے واپس کردیا۔ پھر جب آپ نے اس کے چہرے کار نگ دیکھا تو فرمایا: ’’ہم نے یہ تجھے صرف اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔‘‘

...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1193. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ - أَوْ بِوَدَّانَ - فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ»...

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام با...)

1193.

مالک نے ابن شہاب سے، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے انھوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے آپﷺ کو ایک زیبرا ہدیتاً پیش کیا، آپﷺ ابواء یا ودان مقام پر تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے واپس کر دیا (انھوں نے) کہا: جب رسول اللہ نے میرے چہرے کی کیفیت دیکھی تو فرمایا: ’’بلا شبہ ہم نے تمھا را ہدیہ رد نہیں کیا لیکن ہم حالت احرام میں ہیں (اس لیے اسے نہیں کھا سکتے۔)‘‘

...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1194. وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ، لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ»...

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام با...)

1194.

اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیتاً زیبرا پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م میں تھے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لو ٹا دیا اور فرمایا: ’’اگر ہم احرا م کی حالت میں نہ ہو تے تو ہم اسے تمھا ری طرف سے (ضرور) قبول کرتے۔‘‘

...

5 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ لَحْمِ الصَّيْدِ ل...)

صحیح

849. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَى لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِهِ مِنْ الْكَرَاهِيَةِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَ...

جامع ترمذی: كتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کابیان​)

849.

عبداللہ بن عباس‬ ؓ ک‬ہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ابواء یا ودّان میں ان کے پاس سے گزرے، تو انہوں نے آپ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا، تو آپ نے اسے لوٹا دیا۔ ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ’’ہم تمہیں لوٹاتے نہیں لیکن ہم محرم ہیں‘‘۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت اسی حدیث کی طرف گئی ہے اور انہوں نے محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانے کو مکروہ کہا ہے۔
۳- شافعی کہتے ہیں: ہمارے نزدیک اس حدیث ...

6 سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ مَا لَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنْ ا...)

صحیح

2819. أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ...

سنن نسائی: کتاب: مواقیت کا بیان (باب: کس قسم کا شکارمحرم کے لیے کھانا جائز نہیں؟)

2819.

حضرت صعب بن جثامہ لیثی ؓ سے منقول ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا بطور ہدیہ پیش کیا۔ آپ اس وقت ابواء یا ودان مقام میں تھے۔ رسول اللہﷺ نے وہ انھیں واپس کر دیا۔ لیکن جب رسول اللہﷺ نے میرے چہرے کے غم وتاسف کو ملاحظہ فرمایا تو فرمانے لگے: ”ہم نے یہ صرف اس لیے تجھے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔“

...

9 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ الْمُحْرِمُ، مِنَ الصَّيْ...)

صحیح

3090. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِيَ الْكَرَاهِيَةَ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

(باب: احرام والے کو کون سا شکار کرنا منع ہے)

3090.

حضرت صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ابواء یا ودان کے مقام پر تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے آپ کی خدمت میں گورخر (کا گوشت) تحفے کے طور پر پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ مجھے واپس دے دیا (قبول نہ کیا۔) جب آپﷺ نے میرے چہرے پر افسوس کے آثار دیکھے تو فرمایا: ہم آپ کو (یہ تحفہ) واپس تو نہ کرتے لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں۔

...