1 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِمَارَةِ (بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَال...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1878. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: «لَا تَسْتَطِيعُونَهُ»، قَالَ: فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «لَا تَسْتَطِيعُونَهُ»، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ، وَلَا صَلَاةٍ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى»،...

صحیح مسلم:

کتاب: امور حکومت کا بیان

(باب: اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے کی فضیلت)

1878.

خالد بن عبداللہ واسطی نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی، کہا: نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا، آپﷺ نے ہر بار فرمایا: ’’تم اس کی اسطاعت نہیں رکھتے۔‘‘ تیسری بار فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو، اللہ کے سامنے اس ...

2 جامع الترمذي: أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ​)

صحیح

1619. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ قَالَ إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُ الْقَائِمِ الصَّائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ مِنْ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي الْبَاب عَنْ الشِّفَاءِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ وَأَبِي مُوسَى وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ وَأَ...

جامع ترمذی: كتاب: جہاد کےفضائل کےبیان میں (باب: جہادکی فضیلت کا بیان​)

1619.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ کہاگیا: اللہ کے رسولﷺ! کون ساعمل (اجروثواب میں) جہاد کے برابرہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے‘‘، صحابہ نے دو یا تین مرتبہ آپ کے سامنے یہی سوال دہرایا، آپ ہرمرتبہ کہتے: ’’ تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے‘‘، تیسری مرتبہ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس نمازی اورروزہ دار کی ہے جو نماز اور روزے سے نہیں رکتا (یہ دونوں عمل مسلسل کرتا ہی چلا جاتا) ہے یہاں تک کہ اللہ کی راہ کا مجاہد واپس آ جائے‘‘ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:

3 سنن النسائي: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ...)

صحیح

3128. أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ قَالَ لَا أَجِدُهُ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ تَدْخُلُ مَسْجِدًا فَتَقُومَ لَا تَفْتُرَ وَتَصُومَ لَا تُفْطِرَ قَالَ مَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ...

سنن نسائی: کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل (باب: کون سا عمل جہادفی سبیل اللہ کے برابر ہوسکتا ہ...)

3128.

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوکر کہنے لگا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ نے فرمایا: ”میں تو کوئی ایسا کام (قابل عمل) نہیں پاتا۔ کیا تو اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ جب سے مجاہد (جہاد کے لیے گھر سے) نکلے، تو مسجد میں داخل ہوجائے اور نماز شروع کردے (اور اس کی واپسی تک) ذرہ بھی سستی نہ کرے، نیز روزے رکھنا شروع کردے اور کچھ نہ کھائے پیے؟“ اس شخص نے کہا: اس کی کون طاقت رکھ سکتا ہے؟

...