صحیح بخاری صحیح مسلم سنن ابو داؤد جامع ترمذی سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند احمد سلسلہ احادیث صحیحہ صحیح بخاری صحیح مسلم سنن ابو داؤد جامع ترمذی سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند احمد سلسلہ احادیث صحیحہ 10 نتائج حاصل کریں 25 نتائج حاصل کریں 50 نتائج حاصل کریں 100 نتائج حاصل کریں ????? ???????: 1 - ????? ??????: 6 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 6 1 صحيح البخاري: كِتَابُ الوَصَايَا ??? : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 2796. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ»... صحیح بخاری: کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان () ?????: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 2796. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میرے ورثاء درہم و دینار کو تقسیم نہ کریں۔ میں نے اپنی بیویوں کے اخراجات اور اپنے عاملین کے مشاہرات (جائیدادکی دیکھ بھال کرنے والوں کے خرچے)کے بعد جو چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔ " 2 صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ ??? : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 6568. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ - أَوْ عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ، يَشُكُّ عُمَرُ - فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي المَاءِ، فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَيَقُولُ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ» ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ: «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى» حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَ... صحیح بخاری: کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں () ?????: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام) 6568. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت آپ کے سامنے لکڑی یا چمڑے کا ایک بڑا برتن تھا جس میں پانی تھا۔ عمر بن سعید کو شک ہے۔ آپ اپنا ہاتھ اس پانی میں ڈالتے، پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں بلاشبہ موت بہت سی تکلیفوں پر مشتمل ہے۔ پھر آپ نے اپنا دست مبارک اوپر اٹھایا اور فرمایا: ”رفیق اعلٰی کو پسند کرتا ہوں۔“ یہاں تک کہ اپ کی روح قبض کر لی گئی اور آپ کا ہاتھ مبارک نیچے ڈھلک گیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری ؓ) کہتے ہیں کہ علبہ لکڑی کا اور رکوہ چمڑے کا برتن ہوتا ہے۔... 3 صحيح مسلم: کِتَابُ فَضَائِلِ القُرآنِ وَمَا يُتَعَلَّقُ بِهِ ??? : صحیح 1880. و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ صحیح مسلم: کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور () ?????: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام) 1880. یونس اور عمرو (بن حارث) دونوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت کیا اس میں (مَا أَذِنَ لِنَبِيٍ) کی بجا ئے (كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍ) (جس طرح ایک نبی کے لیے کان دھرتا ہے جو خوش الحانی سے قراءت کر رہا ہو) کے الفاظ ہیں-... 4 جامع الترمذي: أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ??? : صحیح 1651. حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ أَتَاهَا لَيْلًا وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَافَقَ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ... جامع ترمذی: كتاب: سیر کے بیان میں () ?????: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی) 1651. انس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبرروانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے، اورآپﷺ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوجاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ۱؎، پھر جب صبح ہوگئی تو یہود اپنے پھاوڑے اورٹوکریوں کے ساتھ نکلے، جب انہوں نے آپﷺ کو دیکھا توکہا: محمد ہیں، اللہ کی قسم، محمد لشکر کے ہمراہ آگئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ اکبر! خیبربرباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں اس وقت ڈرائے گئے لوگوں کی صبح، بڑی بری ہوتی ہے۔‘‘... 5 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ ??? : ضعیف 2757. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ سنن ابن ماجہ: کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل () ?????: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام) 2757. سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے اپنے غلام کو قتل کیا، ہم اسے قتل کر دیں گے، اور جس نے غلام کے ناک کان کاٹے، ہم بھی اس کے ناک کان کاٹ دیں گے۔‘‘ 6 سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفَرَائِضِ ??? : صحیح 2824. حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ... سنن ابن ماجہ: کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل () ?????: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام) 2824. حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عہ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔‘‘ ????? ???????: 1 - ????? ??????: 6 کل صفحات: 1 - کل احادیث: 6