1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

248. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَسَأَلَهُ النَّاسُ، وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَحَدٌ: بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، «كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَاءٌ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ، فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ»...

صحیح بخاری:

کتاب: وضو کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

248.

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے، لوگوں نے ان سے سوال کیا: نبی ﷺ کے زخم پر کون سی دوا استعمال کی گئی تھی؟ انھوں نے فرمایا: اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی شخص نہیں رہا۔ حضرت علی ؓ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ ؓ آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھوتی تھیں۔ پھر ایک بوریا لایا گیا اور اسے جلانے کے بعد اس کی راکھ کو آپ کے زخم میں بھر دیا گیا۔

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

261. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَتَانِي ابْنُ عَمِّكَ يُعَرِّضُ بِالحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ. قَالَ: كَيْفَ الغُسْلُ مِنَ الجَنَابَةِ؟ فَقُلْتُ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ ثَلاَثَةَ أَكُفٍّ وَيُفِيضُهَا عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ» فَقَالَ لِي الحَسَنُ إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعَرِ، فَقُلْتُ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعَرًا»...

صحیح بخاری:

کتاب: غسل کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

261.

حضرت ابو جعفر ؓ کا بیان ہے کہ ہم سے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا: میرے پاس تمہارے چچا زاد آئے تھے، ان کا اشارہ حسن بن محمد ابن حنفیہ کی طرف تھا، انهوں نے پوچھا: غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا: نبی ﷺ تین چلو لیتے اور انہیں اپنے سر پر بہاتے تھے، پھر اپنے تمام بدن پر پانی ڈالتے تھے۔ حسن نے کہا: میں تو بہت بالوں والا شخص ہوں۔ میں نے جواب دیا: نبی ﷺ کے بال تم سے زیادہ تھے۔

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

262. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ: «وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً لِلْغُسْلِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِالأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: غسل کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

262.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انهوں نے کہا: حضرت میمونہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: میں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کے غسل کے لیے پانی رکھا۔ آپ نے اپنا ہاتھ دو یا تین مرتبہ دھویا۔ پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، بعد ازاں کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ پھر چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے جسم پر پانی بہایا۔ پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے۔

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

273. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الوَاحِدَةِ، مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ» قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ أَوَكَانَ يُطِيقُهُ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ «أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلاَثِينَ» وَقَالَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، إِنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ «تِسْعُ نِسْوَةٍ»...

صحیح بخاری:

کتاب: غسل کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

273.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انهوں نے فرمایا: نبی ﷺ دن اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور یہ گیارہ تھیں۔ راوی نے کہا: میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ اس کی طاقت رکھتے تھے؟ حضرت انس ؓ  نے فرمایا: ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ کو تیس مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے۔ سعید راوی نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے حضرت انس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ آپ کی نو ازواج مطہرات تھیں۔

...

7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

296. حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الغَسْلُ» تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ شُعْبَةَ، مِثْلَهُ وَقَالَ مُوسَى: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَخْبَرَنَا الحَسَنُ مِثْلَهُ قال ابو عبداللہ هذا أجود و أوکد و إنما بینا الحدیث لاختلافھم والغسل أحوط۔...

صحیح بخاری:

کتاب: غسل کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

296.

حضرت ابوہریرہ ؓ سےروایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’جب مرد، عورت کے چاروں اعضاء کے درمیان بیٹھ جائے، پھر کوشش شروع کر دے تو غسل واجب ہو جائے گا۔‘‘ اس حدیث کی متابعت عمرو بن مرزوق نے بواسطہ شعبہ (عن قتادہ) کی ہے۔ اور موسیٰ نے کہا: ہم سے ابان نے حدیث بیان کی، انھوں نے قتادہ سے بیان کی، قتادہ نے حضرت حسن سے یہی روایت بیان کی۔

...

8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَيْض

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

301. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سُئِلَ أَتَخْدُمُنِي الحَائِضُ أَوْ تَدْنُو مِنِّي المَرْأَةُ وَهِيَ جُنُبٌ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: كُلُّ ذَلِكَ عَلَيَّ هَيِّنٌ، وَكُلُّ ذَلِكَ تَخْدُمُنِي وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ فِي ذَلِكَ بَأْسٌ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ: «أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ، تَعْنِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حَائِضٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ مُجَاوِرٌ فِي المَسْجِدِ، يُدْنِي لَهَا رَأْسَهُ، وَهِيَ فِي حُجْر...

صحیح بخاری:

کتاب: حیض کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

301.

حضرت عروہ ؓ سے روایت ہے، ان سے سوال کیا گیا: آیا حائضہ عورت میری خدمت کر سکتی ہے یا بحالت جنابت میرے قریب آ سکتی ہے؟ حضرت عروہ نے فرمایا: میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس طرح کی عورتیں میری بھی خدمت بجا لاتی ہیں۔ کسی شخص پر اس سلسلے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مجھے حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے بتایا کہ وہ بحالت حیض رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک میں کنگھی کیا کرتی تھیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس وقت مسجد میں اعتکاف فرما ہوتے۔ آپ اپنا سر مبارک قریب کر دیتے اور حضرت عائشہ‬ ؓ ح‬ائضہ ہونے کے باوجود اپنے حجرے ہی سے کنگھی کر دیا کرتی تھیں۔

...

10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ صَلاَةِ التَّرَاوِيحِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2028. وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ قَالَ عُمَرُ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ وَالَّتِي يَنَامُونَ عَن...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز تراویح پڑھنے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2028.

حضرت عبدالرحمان بن عبد القاری سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں رمضان کی ایک رات حضرت عمر  ؓ کے ساتھ مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے۔ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا۔ اور کوئی کسی کے پیچھے کھڑا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر  ؓ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کردوں توزیادہ مناسب ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے اس عزم و ارادے کے ساتھ حضرت ابی بن کعب  ؓ کو ان کا امام مقرر کردیا۔ دوسری رات پھر مجھے ان کی معیت میں مسجد نبوی ﷺ جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ لوگ ا پنے امام کے پیچھے نماز تراویح پڑھ رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی  &nb...