2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3387. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ، خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيلَ، وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ، فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيمُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، حَتَّى لَمَّا بَلَغ...

صحیح بخاری:

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3387.

حضرت ابن عباس  ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: جب حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی بیوی (سارہ) کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تو آپ حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ ماجدہ کو ساتھ لے کر باہرنکل آئے جبکہ ان کے پاس صرف ایک مشکیزہ پانی کا تھا۔ حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ اس میں سے پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ بچے کے لیے جوش مارتا رہا حتی کہ جب وہ (حضرت ابراہیم ؑ) مکہ مکرمہ آئے تو انھیں ایک بڑےدرخت کے نیچے بٹھا دیا۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیوی سارہ کی طرف واپس چلے تو حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ ان کے پیچھے آئیں حتی کہ وہ مقام کداء میں پہنچے تو ان کے پیچھے سے آواز دی۔ اے ابراہیم ؑ!ہمیں...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4694. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ فَقُلْتُ مَا أَنْزَلَكَ بِهَذِهِ الْأَرْضِ قَالَ كُنَّا بِالشَّأْمِ فَقَرَأْتُ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ قَالَ مُعَاوِيَةُ مَا هَذِهِ فِينَا مَا هَذِهِ إِلَّا فِي أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ قُلْتُ إِنَّهَا لَفِينَا وَفِيهِمْ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4694.

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مقام ربذہ میں حضرت ابوذر غفاری ؓ کے پاس سے گزرا تو (ان سے) عرض کی: اس جنگل میں آپ نے قیام کیوں پسند کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہم شام میں تھے تو میں نے یہ آیت پڑھی: "جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آپ انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں۔" اس پر حضرت امیرمعاویہ ؓ نے کہا: یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں بلکہ اہل کتاب کے متعلق ہے۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ ہمارے اور اہل کتاب دونوں کے بارے میں ہے۔

...

9 سنن ابن ماجه: كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا

صحیح

4026. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: خوابوں کی تعبیر سے متعلق آداب و احکام

()

١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4026.

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب کسی کو ایسا خواب آئے جو اسے برا لگے تو اسے چاہیے کہ بائیں طرف تین بار تھوک دے، اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے، اور جس پہلو پر لیٹا ہوا ہو، اسے بدل دے (دوسرے پہلو پر لیٹ کر سو جائے)