1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَرْضِ الخُمُسِ (بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الخُمُسَ لِنَوَائِبِ ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3113. حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ المُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى مِمَّا تَطْحَنُ، فَبَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَبْيٍ، فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَلَمْ تُوَافِقْهُ، فَذَكَرَتْ لِعَائِشَةَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لَهُ، فَأَتَانَا، وَقَدْ دَخَلْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ، فَقَالَ: «عَلَى مَكَانِكُمَا». حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَ...

صحیح بخاری:

کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان

(

باب : اس بات کی دلیل کہ غنیمت کا پانچواں حصہ رس...)

3113.

حضرت علی  ؓسے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ  ؓ کو چکی پیسنے کی بہت تکلیف ہوئی۔ پھر انھیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں تو وہ آپ کے پاس خدمت گار لینے کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں لیکن آپ سے ملاقات کا اتفاق نہ ہوسکا۔ انھوں نے حضرت عائشہ  ؓسے اس کا تذکرہ کیا۔ جب نبی کریم ﷺ نے تشریف لائے تو حضرت عائشہ  ؓنے آپ کے سامنے ان کی درخواست پیش کردی۔ (حضرت علی  ؓ کہتے ہیں کہ) پھر نبی کریم ﷺ ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب ہم اپنے بستروں میں جا چکے تھے۔ ہم کھڑے ہونے لگے تو آپ نے فرمایا: ’’اپنے بستروں ہی میں رہو۔‘‘ پ...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ النَّفَقَاتِ (بَابُ عَمَلِ المَرْأَةِ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5361. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، وَبَلَغَهَا أَنَّهُ جَاءَهُ رَقِيقٌ، فَلَمْ تُصَادِفْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ: «عَلَى مَكَانِكُمَا» فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى بَطْنِي، فَقَالَ: «أَلاَ أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْ...

صحیح بخاری:

کتاب: خرچہ دینے کے بیان میں

(

باب: عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں کام کاج کرنا<...)

5361.

سیدنا علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬بی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی چکی پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں انہں اطلاع ملی تھی کہ آپ ﷺ کے پاس قیدی عورتیں آئی ہوئی ہیں۔ لیکن انہیں آپ سے ملاقات کرنے کا اتفاق نہ ہوا اس لیے سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے ذکر کیا۔ جب آپ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ‬ ؓ ن‬ے آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا۔ سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب ہم اپنے ہستروں میں لیٹ چکے تھے۔ ہم نے اٹھنے کا ارادہ کیا آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ پر رہو۔“ چنانچہ آپ میرے اور سیدہ فاطمہ‬ ...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ النَّفَقَاتِ (بَابُ خَادِمِ المَرْأَةِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5362. حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ مُجَاهِدًا، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: «أَلاَ أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ؟ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ، فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ، قِيلَ: وَلاَ لَيْلَةَ...

صحیح بخاری:

کتاب: خرچہ دینے کے بیان میں

(

باب: عورت کے لیے خادم کا ہونا

)

5362.

سیدنا علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬بی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے ایک خادمہ دینے کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر کی خبر دوں؟ (وہ یہ ہے کہ) سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ کہو، 33 مرتبہ الحمد اللہ کہو اور 34 مرتبہ اللہ أکبر کہو۔“ راوی حدیث سیدنا سفیان کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک 34 مرتبہ ہے۔ (سیدنا علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا:) میں نے اس کے بعد ان (تسبیحات) کو کبھی ترک نہیں کیا، کسی نے ان سے پوچھا: صفین کی رات ب...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ (بَابُ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ المَنَامِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6318. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ شَكَتْ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَجِدْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْتُ أَقُومُ، فَقَالَ: «مَكَانَكِ» فَجَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ: «أَلاَ أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ؟ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا، أَوْ أَخَذْتُم...

صحیح بخاری:

کتاب: دعاؤں کے بیان میں

(باب: سو تے وقت تکبیر و تسبیح پڑھنا)

6318.

حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ‬ ؓ ک‬و چکی پسینے کی وجہ سے ہاتھوں میں تکلیف کا عارضہ ہوا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک خادم لینے کے لیے حاضر ہوئیں۔ آپ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے اس کا ذکر کیا۔ جب آپ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ‬ ؓ ن‬ے آپ اسے اس کا ذکر کیا۔ (حضرت علی ؓ نے) بیان کیا کہ آپ ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے جبکہ ہم اس وقت اپنے بستروں میں لیٹ چکے تھے۔ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”یوں ہی لیٹے رہو۔“ پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے حتٰی کہ میں نے آپ کے قدموں کو ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ اس کے ...

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ (بَابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ الن...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

2727. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ الرَّحَى فِي يَدِهَا وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَه...

صحیح مسلم:

کتاب: ذکر الٰہی،دعا،توبہ اور استغفار

(باب: دن کے آغاز اور سوتے وقت تسبیح کرنا)

2727.

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی لیلی سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت فاطمہ‬ رضی اللہ تعالی عنہا ک‬و چکی پیسنے سے جو زحمت برداشت کرنی پڑی اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں تکلیف ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے۔ آپ کی طرف گئیں، لیکن آپ ﷺ کو (گھر میں) نہ پایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا س‬ے ملیں اور انہیں (اپنی تکلیف کے بارے میں) بتایا۔ جب نبی ﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہ‬ رضی اللہ تعالی عنہا ن‬ے آپ کو ان (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا) کے اپنے پاس آنے کے بارے ...

6 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ (بَابٌ فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَه...)

ضعیف

2988. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْجُرَيرِيَّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي، وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: إِنَّهَا جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ فِي يَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَ فِي نَحْرِهَا، وَكَنَسَتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا،...

سنن ابو داؤد:

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

(باب: خمس ( غنیمت کا پانچواں حصہ جو رسول اللہ ﷺ لیا...)

2988.

ابن اعبد سے روایت ہے کہ سیدنا علی ؓ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور سیدہ فاطمہ ؓ دختر رسول ﷺ کی بات نہ بتاؤں اور سیدہ فاطمہ‬ ؓ س‬ے رسول اﷲ ﷺ کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ پیار تھا۔ میں نے کہا: ہاں بتائیے۔ تو انہوں نے کہا: سیدہ فاطمہ‬ ؓ چ‬کی چلاتی تھیں حتیٰ کہ ہاتھوں پر نشان پڑ گئے، پانی کی مشک بھر کر لاتی تھیں حتیٰ کہ ان کے سینے پر نشان پڑ گئے، گھر میں جھاڑو دیتیں تو کپڑے خراب ہو جاتے۔ پھر نبی کریم ﷺ کے پاس لونڈیاں اور غلام آئے۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ اپنے والد کے پاس جا کر کسی خادم کے متعلق کہیں (تو آپ کو سہولت مل جائے گی۔) چنانچہ وہ آئیں اور دیکھا کہ ک...

7 سنن أبي داؤد: كِتَابُ النَّومِ (بَابٌ فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ)

صحیح

5062. حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ الْمَعْنَى عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مُسَدَّدٌ، قَالَ:، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: شَكَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، فَأُتِيَ بِسَبْيٍ، فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ، فَلَمْ تَرَهُ، فَأَخْبَرَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ، فَقَالَ: >عَلَى مَكَانِكُمَا<، فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ ...

سنن ابو داؤد: كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل (باب: سوتے وقت تسبیحات کا ورد)

5062.

سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہسیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے نبی کریم ﷺ سے چکی پیسنے کے باعث ہاتھوں میں تکلیف کا اظہار کیا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے تو سیدہ فاطمہ ؓ آپ ﷺ کے پاس آئیں کہ آپ سے کوئی خادم طلب کریں، مگر آپ نہ ملے، تو انہوں نے سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬و بتایا۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو انہوں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا (کہ سیدہ فاطمہ ؓ آئی تھیں) تو نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں میں جا چکے تھے۔ آپ تشریف لائے تو ہم اٹھنے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اپنی جگہ پر رہو۔“ آپ آئے اور ہمارے درمیان بیٹھ گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سی...

8 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَ...)

صحیح

3408. حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ مَجْلَ يَدَيْهَا مِنْ الطَّحِينِ فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِهِ خَادِمًا فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ الْخَادِمِ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا تَقُولَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مِنْ تَحْمِيدٍ وَتَسْبِيحٍ وَتَكْبِيرٍ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ وَقَ...

جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں (باب: سوتے وقت سبحان اللہ ، اللہ اکبر اور الحمدللہ ...)

3408.

علی ؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپﷺ اپنے ابوجان کے پاس جاتیں اور آپﷺ سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں،(وہ گئیں تو) آپﷺ نے(جواب میں) فرمایا: ’’کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ۳۳،۳۳ بار (اَلْحَمْدُلِلہ) اور (سُبْحَانَ اللہ) اور ۳۴ بار (اللہُ أَکْبَرُ) ...