1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ التَّوَجُّهِ نَحْوَ القِبْلَةِ حَيْثُ كَانَ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

399. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ المَقْدِسِ، سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: 144]، فَتَوَجَّهَ نَحْوَ الكَعْبَةِ ، وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ، وَهُمُ اليَهُودُ: {مَا وَلَّاهُمْ} [البقرة: 142] عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

(

باب: ہر مقام اور ہر ملک میں مسلمان جہاں بھی رہے...)

399.

حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی لیکن رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ انہیں کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہو جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فر دی:’’ہم آپ کے چہرے کا بار بارآسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔‘‘اس حکم کے بعد آپ نے کعبے کی طرف رخ کر لیا۔اس پر بے عقل لوگوں نے جو یہود تھے، کہا:’’ان لوگوں کو کس چیز نے اس قبلے سے پھیر دیاہے جس کی طرف وہ م...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى {سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4486. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ سَمِعَ زُهَيْرًا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ وَأَنَّهُ صَلَّى أَوْ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ وَهُمْ رَاكِعُونَ قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ الَّذِ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

(

باب: آیت (( سیقول السفہاءمن الناس )) کی تفسیر

4486.

حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ مہینے تک نماز پڑھی، البتہ آپ کی خواہش تھی کہ قبلہ، بیت اللہ (کعبہ) ہو جائے۔ بالآخر آپ نے ایک دن نماز عصر (بیت اللہ کی طرف رخ کر کے) پڑھی اور آپ کے ہمراہ صحابہ کرام ؓ بھی تھے۔ جن حضرات نے آپ کے ہمراہ یہ نماز پڑھی تھی، ان میں سے ایک شخص مدینہ طیبہ کی ایک مسجد کے قریب سے گزرا تو نمازی مسجد میں بحالت رکوع تھے۔ اس (صحابی) نے کہا: میں اللہ کا نام لے کر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر مسجد کے تمام نمازی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَخْبَارِ الآحَادِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الوَاحِدِ الص...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7252. حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ الْعَصْرَ ثُمَّ خَرَجَ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَدْ...

صحیح بخاری:

کتاب: خبر واحد کے بیان میں

(

باب : ایک سچے شخص کی خبر پر اذان نماز روزے فرائ...)

7252.

سیدنا براء ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کی طرف منہ کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”یقیناً ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھتے ہیں، ہم آپ کو اس قبیلے کی طرف ضرور پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔“ چنانچہ آپ کا رخ کعبے کی طرف پھیر دیا گیا۔ آپ کے ساتھ ایک آدمی نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ انصار کی ایک جماعت کے پاس گزرا تو کہا: وہ گواہی دیتا ہے ک...

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى ا...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

525. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا» حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ {وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة: 144] فَنَزَلَتْ بَعْدَمَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَحَدَّثَهُمْ، فَوَلُّوا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

(باب: بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلے کی تبدیلی)

525.

ابو احوص نے ابو اسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، کہا: میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھی یہاں تک کہ سورہ بقرۃ کی آیت: ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے رخ کعبہ کی طرف کرو۔‘‘ اتری۔ یہ آیت اس وقت اتری جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے تھے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی (یہ حکم سن) چلا تو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، وہ (مسجد بنی حارثہ میں، جس کا نام اس واقعے کے بعد مسجد قبلتین پڑ گیا) نماز پڑھ رہے تھے، اس نے انہیں یہ (حکم) بتایا تو ان...

6 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى ا...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

525. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا» حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ {وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة: 144] فَنَزَلَتْ بَعْدَمَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَحَدَّثَهُمْ، فَوَلُّوا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

(باب: بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلے کی تبدیلی)

525.

ابو احوص نے ابو اسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، کہا: میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھی یہاں تک کہ سورہ بقرۃ کی آیت: ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے رخ کعبہ کی طرف کرو۔‘‘ اتری۔ یہ آیت اس وقت اتری جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے تھے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی (یہ حکم سن) چلا تو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، وہ (مسجد بنی حارثہ میں، جس کا نام اس واقعے کے بعد مسجد قبلتین پڑ گیا) نماز پڑھ رہے تھے، اس نے انہیں یہ (حکم) بتایا تو ان...

7 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْتِدَاءِ الْقِبْلَةِ​)

صحیح

340. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الْمَدِينَةَ، صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُحِبُّ أَنْ يُوَجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا، فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} فَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ، فَصَلَّى رَجُلٌ مَعَهُ الْعَصْرَ، ثُمَّ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ ن...

جامع ترمذی: كتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: قبلے کی ابتدا کا بیان​)

340.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مدینے آئے تو سولہ یا سترہ ماہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ کعبہ کی طرف رخ کرنا پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، اب آپ اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے) نازل فرمائی، تو آپ نے اپنا چہرہ کعبہ کی طرف پھیر لیا اور آپ یہ...

9 سنن النسائي: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ فَرْضِ الْقِبْلَةِ)

صحیح

489. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ إِنَّهُ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ...

سنن نسائی:

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل

(باب: قبلہ کب مقررہوا؟)

489.

حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ(۱۶) مہینوں تک بیت المقدس کی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھی، پھر آپ کا رخ کعبہ کی طرف کردیا گیا۔ ایک آدمی جس نے (قبلے کی تبدیلی کے بعد) آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انصار کے ایک قبیلے کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں قسم کھاتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کا قبلہ کعبے کی طرف کردیا گیا ہے۔ تو وہ (نماز ہی میں) کعبے کی طرف مڑ گئے۔

...

10 سنن النسائي: كِتَابُ الْقِبْلَةِ (بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ)

صحيح

742. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ...

سنن نسائی: کتاب: قبلے سے متعلق احکام و مسائل (باب: نماز میں قبلے کی طرف منہ کرنا)

742.

حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو تقریباً سولہ (۱۶) مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، پھر آپ کا رخ انور کعبے کی طرف کر دیا گیا۔ ایک آدمی جس نے نبی ﷺ کے ساتھ (کعبے کی طرف منہ کرکے) نماز پڑھی تھی، انصار کی ایک قوم (بنو حارثہ) کے پاس سے گزرا۔ (وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ رہے تھے) اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کو کعبہ رخ نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے، چنانچہ وہ (نماز ہی میں) کعبے کی طرف مڑ گئے۔

...