1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

371. حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يَلْبَسُ المُحْرِمُ؟ فَقَالَ: «لاَ يَلْبَسُ القَمِيصَ وَلاَ السَّرَاوِيلَ، وَلاَ البُرْنُسَ، وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلاَ وَرْسٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ»، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

371.

حضرت ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ محرم کیا پہنے؟ آپ نے فرمایا: ’’محرم قمیص، پاجامہ اور بارانی کا استعمال نہ کرے اور نہ وہ کپڑے پہنے و زعفران یا ورس سے رنگے گئے ہوں۔ اور جس کے ہاس جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے اور انھیں اوپر سے کاٹ دے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔‘‘ حضرت نافع ؒ  نے بواسطہ ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے اس کے مثل روایت کی ہے۔

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

610. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: انْتَظَرْنَا الحَسَنَ وَرَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ قِيَامِهِ، فَجَاءَ فَقَالَ: دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلاَءِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ يَبْلُغُهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى لَنَا، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَقَالَ: «أَلاَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا ثُمَّ رَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ - قَالَ الحَسَنُ - وَإِنَّ القَوْمَ لاَ يَزَالُ...

صحیح بخاری:

کتاب: اوقات نماز کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

610.

حضرت قرہ بن خالد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک دفعہ حضرت حسن بصری کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے تشریف لانے میں اتنی دیر کر دی کہ (مسجد سے) ان کی برخاستگی کا وقت قریب آ گیا۔ بہرحال وہ تشریف لائے اور فرمایا: ہمیں ہمارے پڑوسیوں نے دعوت دی تھی (اس لیے دیر ہو گئی) پھر انہوں نے کہا: حضرت انس ؓ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ ہم نے ایک رات نبی ﷺ کا انتظار کیا تاآنکہ آدھی رات ہو گئی، اس کے بعد آپ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’خبردار! لوگ تو نماز پڑھ کر سو گئے اور تم برابر نماز میں رہے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔&ls...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

947. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا...

صحیح بخاری:

کتاب: جمعہ کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

947.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن دوران وعظ فرمایا: ’’اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر ٹھیک اس گھڑی میں بندہ مسلم کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور عطا کرتا ہے۔‘‘ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ گھڑی تھوڑی دیر کے لیے آتی ہے۔

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2130. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ...

صحیح بخاری:

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2130. حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جب دو آدمی آپس میں بیع کریں تو جب تک دونوں جدا نہ ہو اور دونوں اکٹھےرہیں، ان میں سے ہرایک کو بیع کے انعقاداور فسخ کا اختیار ہے۔ ہاں اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دیا اور اسی طریقے پر انھوں نے بیع کا معاملہ کیا تو بیع واجب ہوگی۔ اور اگر وہ بیع کرنے کے بعد جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو فسخ نہ کیا تو بھی بیع واجب ہو جائے گی۔ "...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2228. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ جُمَّارًا فَقَالَ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ كَالرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ فَإِذَا أَنَا أَحْدَثُهُمْ قَالَ هِيَ النَّخْلَةُ...

صحیح بخاری:

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2228.

حضرت ابن عمر  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا جبکہ آپ کھجور کاگودا کھارہے تھے، آپ نے فرمایا: ’’درختوں میں سے ایک درخت ہے جو بندہ مومن کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟)‘‘ میں نے یہ کہنے کا ارادہ کیا کہ وہ کھجور کادرخت ہے۔ لیکن جتنے لوگ وہاں موجود تھے میں ان سب میں کمسن تھا لہذا چپ رہا، آپ نے خود ہی فرمایا: ’’وہ کھجور کادرخت ہے۔‘‘

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2235. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً...

صحیح بخاری:

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2235.

حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر  ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے کہ اس دوران پراگندہ بال لمبے قد والا ایک مشرک آیا اور وہ کچھ بکریاں ہانک کر لایا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا: ’’یہ بکریاں بیچنے کے لیے ہیں یا عطیہ دینے کے لیے ہیں؟‘‘ راوی کو شک ہے کہ عطیہ یا ہبہ کالفظ کہا۔ اس نے کہا: کچھ نہیں، بلکہ فروخت کے لیے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے ایک بکری خرید لی۔

...

7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2889. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ»، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ سَابَقَ بِهَا، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: أَمَدًا: غَايَةً ، {فَطَالَ عَلَيْهِمُ الأَمَدُ} [الحديد: 16]...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2889.

حضرت عبد اللہ بن عمر  ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنھیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور مقابلے کی حدثنیۃ الوداع سے لے کر مسجد بنوزریق تک رکھی تھی۔ اور عبداللہ بن عمر  ؓ بھی ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے گھوڑے دوڑائے تھے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری ؒ) نے کہا کہ حدیث میں : لفظ أَمَدُکے معنی حد اور انتہاکے ہیں۔ قرآن مجید میں ﴿فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ﴾ بھی اسی معنی میں ہے۔ یعنی ان پر وقت کی انتہا طویل ہو گئی۔

...

9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2944. حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ الأَسْوَدِ العَنْسِيَّ، حَدَّثَهُ - أَنَّهُ أَتَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَهُوَ نَازِلٌ فِي سَاحَةِ حِمْصَ وَهُوَ فِي بِنَاءٍ لَهُ، وَمَعَهُ أُمُّ حَرَامٍ - قَالَ: عُمَيْرٌ، فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ: أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ البَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا»، قَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ؟ قَالَ: «أَنْتِ فِيهِمْ»، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2944.

حضرت عمیر بن اسودعنسی نے بیان کیا کہ وہ حضرت عبادہ بن صامت  ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جبکہ ان کا قیام ساحل حمص پر ان کے اپنے ہی مکان میں تھا۔ اور(ان کی بیوی) حضرات ام حرام  ؓبھی ان کے ساتھ تھیں۔ عمیر نے کہا: ہم سے حضرت ام حرام  ؓنے بیان کیا کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’میری امت میں سب سے پہلے جو لوگ بحری جنگ لڑیں گے، ان کے لیے جنت واجب ہے۔‘‘ حضرت ام حرام  کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ ! کیا میں انھی میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ’’تم انھی میں سے ہو۔‘‘ حضرت ام حرام  ؓ ...