1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَضَائِلِ القُرْآنِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5045. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَأُعَلِّمَنّ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5045.

سیدنا ابو سعید بن معلیٰ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا : میں نماز میں مشغول تھا کہ مجھے نبی ﷺ نے بلایا، اس لیے میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا۔ (فراغت کے بعد) میں نے کہا : اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں اللہ تعالٰی نے حکم نہیں دیا، جب تمہیں اللہ اور اس کا رسول بلائے تو فوراً حاضر ہو جاو؟ پھر آپ نے فرمایا: کیا مسجد سے نکلنے سے پہلے پہلے میں تمہیں قرآن کریم کی عظیم تر سورت نہ پڑھاؤں؟ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے ابھی فرمایا تھا: ”کیا تمہیں قرآن کی عظیم تر سورت نہ پڑھاؤں؟&l...

3 سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ

صحیح

1014. أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَهُوَ ابْنُ إِيَاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَب...

سنن نسائی: کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل ()

١. فضيلة الشيخ حافظ محمّد أمين (دار السّلام)

1014.

حضرت ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:(وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) کی تفسیر میں فرمایا: یہ آیت اس وقت اتری جب آپ مکہ مکرمہ میں چھپ کر رہتے تھے۔آپ جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتےتوقرآن مجید بلند آوازسے پڑھتے۔ مشرکین جب آپ کی آوازسنتے تو قرآن پاک، اس کے اتارنے والے اور اس کے لانے والے (سب) کو گالیاں دیتے۔ تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ”اتنی بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کہ مشرکین اسے سن کر قرآن کو گالیاں دیں اور اتنا آہستہ بھی نہ پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کی درمیانی راہ اختیار کریں۔“

...