1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

134. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مَثَلُ المُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ؟» فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ البَادِيَةِ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ النَّخْلَةُ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ أَبِي بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِي، فَقَالَ: «لَأَنْ تَكُونَ قُل...

صحیح بخاری:

کتاب: علم کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

134.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ اس کی شان مسلمان کی طرح ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟‘‘ یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں کی طرف گئے، لیکن میرے ذہن میں یہ آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں: (لیکن) مجھے شرم دامن گیر ہو گئی۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہی بتائیں وہ کون سا درخت ہے؟ آپ نے فرمایا:’’وہ کھجور کا درخت ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد گرامی (حضرت عمر ؓ) سے وہ بات بیان کی جو میرے ...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

366. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الحَارِثِ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ، فَقَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَا السُّرَى يَا جَابِرُ» فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ: «مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ»، قُلْتُ: كَانَ ثَوْبٌ - يَعْنِي ضَاقَ - قَالَ: «فَإِنْ كَانَ وَاسِ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

366.

حضرت سعید بن حارث سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے متعلق مسئلہ دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھا، رات کو کسی ضروری کام کے لیے آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت میرے اوپر ایک ہی کپڑا تھا۔ میں نے اسے اپنے بدن پر لپیٹا اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’اے جابر! رات کے وقت کیسے آئے؟‘‘ میں نے آپ کی خدمت میں اپنی ضرورت پیش کی۔ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ کپڑے کا لپی...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1542. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا...

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1542.

حضرت ابن عباس ؓ  سے روایت ہے، انھوں نے نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر فرمایا، شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو مقرر کیا۔ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان علاقوں سے گزر کر حدود حرم میں داخل ہوں بشرطیکہ وہ حج یا عمرے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور جو لوگ میقات کے اندر کی جانب ہیں وہ جہاں سے روانہ ہوں وہیں سے احرام باندھیں حتی کہ اہل مکہ، مکہ مکرمہ سے احرام باندھ لیں۔

...

5 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1842. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجُوا مَعَهُ فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلَّا أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِن...

صحیح بخاری:

کتاب: شکار کے بدلے کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1842.

حضرت ابو قتادہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حج کی نیت سے روانہ ہوئے تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی آپ کے ہمراہ نکلے۔ آپ نے ان میں سے کچھ لوگوں کو دوسرے راستے سے بھیج دیا۔ ان میں ابو قتادہ  ؓ بھی تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا: ’’ تم سمندر کا کنارہ اختیار کرو حتی کہ ہم آملیں۔‘‘ وہ دریا کے کنارے چلتے رہے۔ جب وہ لوٹے تو ان سب نے احرام باندھ رکھا تھا لیکن حضرت ابوقتادہ  ؓ نے احرام نہیں باندھا تھا، اس دوران میں کہ وہ چل رہے تھے انھوں نے کئی ایک گاؤخر دیکھے۔ حضرت ابو قتادہ  ؓ نے اچانک ان پر حملہ کیا تو ماد...

8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطِّبِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5806. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى: أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ المَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ: كَيْفَ أَغْرَمُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ لاَ شَرِبَ ...

صحیح بخاری:

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5806.

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں فیصلہ کیا جنہوں نے آپس میں جھگڑا کیا تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا جو اس کے پیٹ پر جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی، اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کے پیٹ کی دیت ایک غلام یا لونڈی ادا کرنا ہے۔ جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے سرپرست نےکہا: میں اس کا تاوان ادا کروں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ چلایا؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت واجب نہیں ہوسکتی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ...

9 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5847. حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الضُّحَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي المُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: «انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَتَلَقَّيْتُهُ بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ، فَكَانَا ضَيِّقَيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَعَلَى خُفَّيْهِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: لباس کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5847.

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ جب وآپس آئے تو میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے وضو کیا جبکہ آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھوں کی اس کی آستینوں سے نکالنا چاہا لیکن وہ تنگ تھیں اس لیے آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے ینچے سے نکالے اور پھر بازؤں کو دھویا، سر اور موزوں پر مسح فرمایا۔

...

10 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5852. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَلْبَسُ المُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْبَسُوا القُمُصَ، وَلاَ العَمَائِمَ، وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ، وَلاَ البَرَانِسَ، وَلاَ الخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لاَ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ، وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلاَ الوَرْسُ»...

صحیح بخاری:

کتاب: لباس کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5852.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اللہ کے رسول! محرم آدمی کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(احرام میں ) قمیض، پگڑی، شلوار۔ لمبی ٹوپی (اوور کوٹ) اور موزے نہ پہنو لیکن! اگر کوئی جوتا نہ پائے تو موزے پہن لے لیکن انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے اور نہ وہ کپڑے پہنو جنہیں زعفران اور ورس سے رنگا گیا ہو۔“

...