1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

644. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ، فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ، فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ، أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، لَشَهِدَ العِشَاءَ»...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

644.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تاکہ لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے، پھر نماز کے لیے کسی کو اذان دینے کے متعلق کہوں، پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کا امام بنے اور میں خود ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے)، پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو جائے کہ وہ مسجد میں موٹی ہڈی یا دو عمدہ گوشت والے پائے حاصل کرے گا تو وہ نماز عشاء میں ضرور حاضر ہو۔&l...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

710. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ، فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ» وَقَالَ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

710.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’میں نماز شروع کرتے وقت اسے طول دینے کا ارادہ کرتا ہوں لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر اسے مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے میں محسوس کرتا ہوں کہ ماں کی مامتا تڑپ جائے گی۔‘‘ (راوی حدیث) موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ابان نے حدیث بیان کی، اسے قتادہ نے، پھر اس نے حضرت انس سے اسے بیان کیا۔ حضرت انس ؓ نبی ﷺ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2453. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فَذَكَرَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ...

صحیح بخاری:

کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2453.

حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے اور کچھ لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا۔ حضرت ام المومنین عائشہ  ؓ سے اس کا ذکر کیا گیاتو انھوں نے فرمایا: ابو سلمہ!زمین کے معاملے میں اجتناب کرو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کسی نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین ہڑپ کی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائےگا۔‘‘

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّهَادَاتِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2669. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ} [آل عمران: 77] إِلَى {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [آل عمران: 77]، ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ: فَقَالَ صَدَقَ، لَفِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ الل...

صحیح بخاری:

کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2669.

حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جو شخص کسی کامال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری: ’’جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو۔ ۔ ۔ ان کے لیے المناک عذاب ہو گا۔‘‘ پھر اشعث بن قیس  ؓ ہمارے پاس تشریف لائے اور انھوں نے دریافت کیا کہ ابو عبدالرحمان  ؓ تمھیں کیا حدیث بیان کررہے تھے؟جو کچھ انھوں نے فرمایا تھا ہم نے انھیں بیان کیا۔ وہ فرمانے لگے:...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2809. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ البَرَاءِ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلاَ تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ، وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الجَنَّةِ صَبَرْتُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي البُكَاءِ، قَالَ: «يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الفِرْدَوْسَ الأَعْلَى»...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2809.

حضرت انس بن مالک  ؓسے روایت ہے کہ حضرت ام ربیع  ؓجوبراء کی بیٹی اور حارثہ بن سراقہ  ؓ کی والدہ ہیں، وہ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوکر عرض کرنے لگیں: اللہ کے نبی کریم ﷺ ! کیا آپ مجھے حارثہ  ؓ کے متعلق نہیں بتائیں گے؟ وہ غزوہ بدر میں اچانک تیر لگنے سے شہید ہوگیا تھا۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں، اگر کوئی دوسری بات ہے تواس پر جی بھر کر رولوں۔ آپ نے فرمایا: ’’اے ام حارثہ  ؓ! جنت میں تو درجہ بدرجہ کئی باغ ہیں اورتیرا بیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے۔‘‘

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الطِّبِّ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5686. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ نَاسًا اجْتَوَوْا فِي المَدِينَةِ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِيهِ - يَعْنِي الإِبِلَ - فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، حَتَّى صَلَحَتْ أَبْدَانُهُمْ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَسَاقُوا الإِبِلَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ» قَالَ قَتَادَةُ: فَحَدَّثَنِي مُحَ...

صحیح بخاری:

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5686.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں چند لوگوں نے (مدینہ طیبہ کی) آب وہوا کو ناموافق پایا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”وہ آپ کے چرواہے کے پاس چلے جائیں۔“ یعنی اونٹنیوں کے باڑے میں قیام رکھیں وہاں ان کا دودھ نوش کریں اور ان کا پیشاب بھی پئیں، چنانچہ وہ لوگ آپ کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور انہوں نے وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب ان کے جسم صحت مند ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے، جب انہیں پکڑ کر لایا گیا تو آپ کے حکم سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ

صحیح

273. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا» فَتَنَحَّيْتُ فَقَالَ: «ادْنُهْ» فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ «فَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ»....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

273.

اعمش نے شقیق سے، اور انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کی، انہوں نےکہا: میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ایک خاندان کے کوڑا  پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو  میں دور ہٹ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’قریب        آجاؤ۔‘‘ میں قریب ہو کر (دوسری طرف رخ کر کے) آپ  کے پیچھے کھڑا ہو گیا (فراغت کے بعد) آپ ﷺ نے وضو کیا اورموزوں پر مسح کیا۔ (قریب کھڑا کرنے کا مقصد اس کی اوٹ لینا تھا)

...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ

صحیح

274. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ». وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: «مَكَانَ حِينَ حَتَّى»....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

274.

لیث نے یحیی بن سعید سے، انہوں نے سعد بن  ابراہیم سے، انہوں نے نافع بن جبیر سے، انہوں نے عروہ بن مغیرہ سے، انہوں نے اپنے والد مغیرہ بن شعبہ ؓ سے انہوں رسول اللہ ﷺ سے روایت کی: ’’کہ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے نکلے تو مغیرہ ؓ  آپ کے پیچھے برتن لے کر آئے جس میں پانی تھا، جب آپ ﷺ  اپنی حاجت سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔‘‘ ابن رمح  کی روایت میں ’’حب‘‘ کے بجائے ’’یہاں تک کہ (آپ فار غ ہو گئے)‘‘ کے الفاظ ہیں۔

9 صحيح مسلم: کِتَابُ فَضَائِلِ القُرآنِ وَمَا يُتَعَلَّقُ بِهِ

صحیح

808. و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...

صحیح مسلم:

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

808.

علی بن مسہر نے اعمش سے روایت کی، انھوں نے ابراہیم سے، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے، انھوں نے علقمہ بن قیس سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی یہ آخری دو آیات پڑھیں وہ اس کے لئے کافی ہوں گی۔‘‘ عبدالرحمان نے کہا: میں خود ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا، وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ روایت (براہ راست) نبی اکرم ﷺ سے سنائی۔

...

10 صحيح مسلم: کِتَابُ فَضَائِلِ القُرآنِ وَمَا يُتَعَلَّقُ بِهِ

صحیح

808. و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ...

صحیح مسلم:

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

808.

علی بن مسہر نے اعمش سے روایت کی، انھوں نے ابراہیم سے، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے، انھوں نے علقمہ بن قیس سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی یہ آخری دو آیات پڑھیں وہ اس کے لئے کافی ہوں گی۔‘‘ عبدالرحمان نے کہا: میں خود ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا، وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ روایت (براہ راست) نبی اکرم ﷺ سے سنائی۔

...