1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

474. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَفَتَحَ البَابَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، ثُمَّ أَغْلَقَ البَابَ، فَلَبِثَ فِيهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجُوا» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَبَدَرْتُ فَسَأَلْتُ بِلاَلًا فَقَالَ: صَلَّى فِيهِ، فَقُلْتُ: فِي أَيٍّ؟ قَالَ: بَيْنَ الأُسْطُوَانَتَيْنِ، قَالَ: ابْنُ عُمَرَ: فَذَهَبَ عَلَيَّ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

474.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ تشریف لائے تو آپ نے (چابی بردار) حضرت عثمان بن طلحہ ؓ  کو بلایا، انھوں نے بیت اللہ کا دروازہ کھولا۔ پھر نبی ﷺ، حضرت بلال، اسامہ بن زید اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنھم اندر گئے۔ بعد ازیں دروازہ بند کر لیا گیا۔ آپ وہاں تھوڑی دیر رہے، پھر سب باہر نکلے، خود ابن عمر ؓ نے کہا: میں جلد اٹھا اور حضرت بلال ؓ سے جا کر پوچھا تو انھوں نے بتایا: آپ ﷺ نے کعبے کے اندر نماز پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا: کس مقام پر؟ تو انھوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔ حضرت ابن عمر ؓ  کہتے ہیں: یہ بات پوچھنے سے رہ گئی کہ آپ نے کتنی رکعات پڑھ...

3 جامع الترمذي: أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

2724. حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ مَا لَكَ يَا حَنْظَلَةُ قَالَ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا أَبَا بَكْرٍ نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَ...

جامع ترمذی:

كتاب: احوال قیامت ،رقت قلب اورورع کے بیان میں

()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

2724.

حنظلہ اسیدی ؓ سے روایت ہے (یہ نبی اکرم ﷺ کے کاتبوں میں سے ایک کاتب تھے)، وہ کہتے ہیں: میں ابوبکر ؓ کے پاس سے روتے ہوئے گزرا تو انہوں نے کہا: حنظلہ! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ میں نے کہا: ابوبکر! حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے (بات یہ ہے) کہ جب ہم رسول اللہ ﷺکے پاس ہوتے ہیں، اور آپﷺ ہمیں جہنم اورجنت کی یاد اس طرح دلاتے ہیں گویا ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب ہم دنیاوی کاروبار اور اپنے بچوں میں واپس چلے آتے ہیں تو اس نصیحت میں سے بہت کچھ بھول جاتے ہیں، ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا بھی یہی حال ہے۔ چلو ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس، چنانچہ ہم دونوں چل پڑے، پ...