1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1329. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِأَهْلِهَا يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ...

صحیح بخاری:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1329.

حضرت ابو خدری ؓ  سے روایت ہے،انھوں نے کہا:نبی ﷺ نے فرمایا:’’جب جنازہ تیار کر کے رکھ دیا جا تا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھالیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے:مجھے جلدی آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے:افسوس! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسانوں کے علاوہ اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے۔ اگر انسان اسے سن لیں تو(مارےدہشت کے) بے ہوش ہو جائیں۔‘‘

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3635. حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ فَيَكُونَ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ...

صحیح بخاری:

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3635.

حضرت ابو ہریرہ  ؓ ہی سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ دوگروہ لڑیں گے اور ان میں عظیم جنگ برپاہو گی، ان کا دعوی ایک ہو گا۔ اور قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ تیس کے قریب جھوٹ بولنے والے دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گاکہ وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘

...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَخْبَارِ الآحَادِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7332. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ لِي إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ الْوَفْدُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَسَأَلُوا عَنْ الْأَشْرِبَةِ فَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ وَأَمَرَه...

صحیح بخاری:

کتاب: خبر واحد کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7332.

سیدنا ابو حمزہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: سیدناابن عباس ؓ مجھے خاص اپنے تخت پر بٹھا لیتے تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”یہ کس قوم کا وفد ہے؟“ انہوں نے کہا: قبیلہ ربیعہ ( کی ایک شاخ) کا ۔ آپ نے فرمایا: ”کسی قسم کی رسوائی یا شرمندگی اٹھائے بغیر اس وفد کو مبارک ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضرہیں۔ لہذا آپ ہمیں ایسی باتیں بتائیں جن پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی ان سے آگاہ کریں۔ پھر انہو...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7543. حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ فَنَزَعْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَنْزِعَ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنْ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ حَوْلَهُ بِعَطَنٍ...

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7543.

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میں ایک وقت سو رہا تھا کہ خود کو ایک کنویں پرد یکھا۔ میں نے اس سے، جتنا اللہ نے چاہا، پانی نکالا۔ اس کے بعد ابن قحافہ نے ڈول پکڑ لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے البتہ ان کے ڈول کھنچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ پھر اسے عمر نے لے لیا تو وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے لوگوں میں سے کوئی باکمال و بے مثال نہیں دیکھا اس طرح ڈول پر ڈول نکالتا ہو یہاں تک کہ لوگوں نے اس کنویں کے ارد گرد گھاٹ بنالیے۔“ 

...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا

صحیح

1699. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1699.

ابو نضر سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کی طرف گئی تو میں نے آپ ﷺ کو نہاتے ہوئے پایا جبکہ آپﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپﷺ کو کپڑے سےچھپائے ہوئے تھیں (آگے پردہ کیا ہوا تھا) میں نے سلام عرض کیا، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا:  ’’ام ہانی کو خوش آمدید!‘‘ جب آپﷺ نہانے سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور صرف ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں، جب آپﷺ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ می...

8 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْحُدُودِ

صحیح

4446. حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا- مَرَّتَيْنِ-، فَطَرَدَهُ، ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا- مَرَّتَيْنِ-، فَقَالَ: >شَهِدْتَ عَلَى نَفْسِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ, اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ<....

سنن ابو داؤد:

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان

()

١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

4446.

سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ سیدنا ماعز بن مالک ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، دو بار، تو آپ ﷺ نے اس کو واپس بھگا دیا۔ وہ پھر آیا اور زنا کرنے کا دو بار اعتراف کیا، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنے اوپر چار بار شہادت دی ہے۔ اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔“

...