2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ مَنْ أَخَفَّ الصَّلاَةَ عِنْدَ بُكَاءِ الصَّ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

708. حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاَةً، وَلاَ أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ»...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

(باب: جس نے بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر...)

708.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نبی ﷺ سے زیادہ مختصر اور اسے مکمل طر پر ادا کرنے والا ہو۔ بےشک آپ بچے کا گریہ سن کر نماز کو ہلکا کر دیتے تھے مبادا اس کی ماں پریشان ہو جائے۔

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ مَنْ أَخَفَّ الصَّلاَةَ عِنْدَ بُكَاءِ الصَّ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

710. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ، فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ» وَقَالَ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

(باب: جس نے بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر...)

710.

حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’میں نماز شروع کرتے وقت اسے طول دینے کا ارادہ کرتا ہوں لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر اسے مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے میں محسوس کرتا ہوں کہ ماں کی مامتا تڑپ جائے گی۔‘‘ (راوی حدیث) موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ابان نے حدیث بیان کی، اسے قتادہ نے، پھر اس نے حضرت انس سے اسے بیان کیا۔ حضرت انس ؓ نبی ﷺ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔

...

9 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلَاةِ وَتَخْفِيفِه...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

473. وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ، كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً، وَكَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» قَامَ، حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ، ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَ...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

(باب: نماز کے ارکان میں اعتدال اور نماز کی تکمیل کے...)

473.

بہز بن حماد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے کسی کے پیچھے نبی اکرمﷺ سے زیادہ ہلکی نماز نہیں پڑھی جو کامل ہو۔ رسول اللہﷺ کی نماز (میں ارکان کی طوالت) قریب قریب تھی اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز بھی قریب قریب ہوتی تھی۔ جب عمر رضی اللہ تعالی عنہ (امیر مقرر) ہوئے تو انہوں نے نماز فجر (میں قراءت) لمبی کر دی۔ اور رسول اللہﷺ جب سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو کھڑے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپﷺ (شاید سر اٹھانا) بھول گئے ہیں، پھر سجدہ کرتے اور دو سجدوں کے درم...

10 سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ (بَابُ طُولِ الْقِيَامِ مِنْ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ ال...)

صحیح

853. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَامَ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَسْجُدُ وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ...

سنن ابو داؤد: کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل (باب: رکوع کے بعد کے قیام اور سجدوں کے درمیان کے قع...)

853.

سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ قدر لمبا قیام کرتے کہ ہم سمجھتے شاید آپ کو وہم ہو گیا ہے۔ پھر آپ تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے۔ اور آپ دونوں سجدوں (دو سجدوں) کے درمیان بیٹھتے (اور اس قدر لمبا بیٹھتے) کہ ہم کہتے کہ شاید آپ کو وہم ہو گیا ہے۔