1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِيمَانِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

36. حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، أَوْ أُدْخِلَهُ الجَنَّةَ، وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ.»...

صحیح بخاری:

کتاب: ایمان کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

36.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے ذمے داری لیتا ہے جو اس کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ اسے گھر سے صرف اس بات نے نکالا کہ وہ مجھ (اللہ) پر ایمان رکھتا ہے اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتا ہے، تو میں اسے اس ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کروں گا جو اس نے جہاد میں پایا، یا اسے (شہید بنا کر) جنت میں داخل کروں گا۔ اور (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) اگر میں اپنی امت کے لیے اسے دشوار نہ سمجھتا تو کبھی چھوٹے سے چھوٹے لشکر سے بھی پیچھے نہ بیٹھ رہتا۔ اور میری یہ آرزو ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر ز...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوَصَايَا

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2787. وَقَالَ لَنَا سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: مَا رَدَّ ابْنُ عُمَرَ عَلَى أَحَدٍ وَصِيَّةً وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ أَحَبَّ الأَشْيَاءِ إِلَيْهِ فِي مَالِ اليَتِيمِ أَنْ يَجْتَمِعَ إِلَيْهِ نُصَحَاؤُهُ وَأَوْلِيَاؤُهُ، فَيَنْظُرُوا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ لَهُ وَكَانَ طَاوُسٌ: إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ اليَتَامَى قَرَأَ {وَاللَّهُ يَعْلَمُ المُفْسِدَ مِنَ المُصْلِحِ} [البقرة: 220] وَقَالَ عَطَاءٌ فِي يَتَامَى الصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ: «يُنْفِقُ الوَلِيُّ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ بِقَدْرِهِ مِنْ حِصَّتِهِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2787.

حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر  ؓ کبھی کسی کی وصیت کو مسترد نہیں کرتے تھے۔ ابن سیرین ؒ فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال کے متعلق میرے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ اس کے مخلص خیر خواہ اور سر پرست جمع ہو جائیں اور غور کریں کہ یتیم کی بہتری کس چیز میں ہے۔ حضرت طاؤس ؒسے اگر یتیموں کے کسی معاملے کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ یہ آیت پڑھتے۔ ’’اللہ تعالیٰ فسادی اور خیر خواہ کو خوب جانتا ہے۔‘‘ حضرت عطاء ؒچھوٹے بڑے یتیم کے متعلق فرماتے ہیں کہ سر پرست ہر ایک پر اس کے حصے کے مطابق خرچ کرے۔

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2972. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي القَعْدَةِ، وَلاَ نُرَى إِلَّا الحَجَّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالمَرْوَةِ، أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «نَحَرَ ...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2972.

حضرت عائشہ  ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ (جج کے لیے) اس وقت روانہ ہوئے جب ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ اس وقت حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا۔ جب ہم مکےکےقریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ جب بیت اللہ کے طواف اور صفاو مروہ کی سعی سے فارغ ہو تو احرام کھول دے۔ حضرت عائشہ  ؓ فرماتی ہیں کہ دس ذوالحجہ کو ہمارے ہاں گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے دریافت کیا: یہ گوشت کیسا ہے؟ ہمیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے (یہ اس کا گوشت ہے۔ ) -

...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7227. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ وَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ثُمَّ قَالَتْ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُطْعِمَ مِنْ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالَ لَهَا لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ مِنْ مَعْرُوفٍ...

صحیح بخاری:

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7227. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا: سیدہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ؓا آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! روئے زمین پر کوئی گھر انہ ایسا نہیں تھا جس کے متعلق میں اس حد تک ذلت کی خواہش مند ہوتی جتنا آپ کے گھرانے کی ذلت اور رسوائی کی خواہش مند تھی اور اب میں سب سے زیادہ اس امر کی خواہش مند ہوں کہ روئے زمین کے تمام گھرانوں میں آپ کا گھرانہ عزت وسربلندی میں سب سے زیادہ اونچا ہو۔ پھر انہوں نے کہا: ابو سفیان انتہائی بخیل آدمی ہیں تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ بلا اجازت ان کے مال میں سے اہل وعیال کو کھلاؤں؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ تو تم پر کوئی حرج نہی...

7 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7457. حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَ...

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7457.

سیدنا جابر بن عبداللہ سلمی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬و تمام (جائز) کاموں میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے جس طرح آپ انہیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یوں کہے: اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل کا طلبگار ہوں کیونکہ تجھے قدرت ہے مجھے نہیں تو جانتا ہے میں نہیں تو غیبوں کواچھی طرح جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اس کام بعینہ نام لے) میرے لیے دنیا و آخرت میں۔۔۔۔۔۔۔ یا اس...

8 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

7463. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرُّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا...

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7463.

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ نےفرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھ لے: ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور جو کچھ تو ہمیں عطا کرے اس سے بھی شیطان کو دور رکھنا۔ اگر اس صحبت میں کوئی بچہ ان دونوں کے نصیب میں ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ 

...

9 صحيح مسلم: کِتَابُ فَضَائِلِ القُرآنِ وَمَا يُتَعَلَّقُ بِهِ

صحیح

1876. حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ...

صحیح مسلم:

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1876.

اعمش نے شفیق بن سلمہ سے روا یت کیا انھوں نے کہا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ان مصاحف ۔۔اور کبھی کہا: قرآن ۔۔ کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے بھا گ جا نے میں اپنے پاؤں کی رسیوں سے نکل بھاگنے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے کہا: اور رسول اللہ ﷺ نے فر یا ہے: ’’تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چا ہیے کہ میں فلا ں فلا ں آیت بھول گیا ہوں بلکہ اسے بھلوا دیا گیا ہے۔

...

10 صحيح مسلم: کِتَابُ فَضَائِلِ القُرآنِ وَمَا يُتَعَلَّقُ بِهِ

صحیح

1876. حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ...

صحیح مسلم:

کتاب: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

1876.

اعمش نے شفیق بن سلمہ سے روا یت کیا انھوں نے کہا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ان مصاحف ۔۔اور کبھی کہا: قرآن ۔۔ کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے بھا گ جا نے میں اپنے پاؤں کی رسیوں سے نکل بھاگنے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے کہا: اور رسول اللہ ﷺ نے فر یا ہے: ’’تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چا ہیے کہ میں فلا ں فلا ں آیت بھول گیا ہوں بلکہ اسے بھلوا دیا گیا ہے۔

...