1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4849. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ أَبَيْتُ وَيَبْلَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ فِيهِ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4849.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’دونوں نفخوں میں چالیس کا فاصلہ ہو گا۔‘‘ لوگوں نے پوچھا: ابوہریرہ! کیا چالیس دن کا؟ انہوں نے فرمایا: میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ پھر لوگوں نے پوچھا: چالیس سال کا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ لوگوں نے عرض کی: چالیس ماہ کا؟ فرمایا: میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، البتہ اتنا کہوں گا کہ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے سرے کے، اسی سے ترکیب خلق ہو گی۔

...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4850. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوَى ثَوْبَهُ ف...

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4850.

حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ سخت معاملہ مشرکین نے کیا کیا تھا؟ حضرت عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کعبے کے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ اس دوران میں عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کا شانہ مبارک پکڑ کر آپ کی گردن میں اپنا کپڑا لپیٹ دیا۔ پھر اس کپڑے سے بڑی سختی کے ساتھ آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ بھی آ گئے۔ انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑ کر رسول اللہ ﷺ سے ہٹایا اور کہا: ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کر دینا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میر...

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ

صحیح

2847. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: «السَّرَاوِيلُ، لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ وَالْخُفَّانِ، لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ» يَعْنِي الْمُحْرِمَ...

صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل ()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

2847.

حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انھوں نے جابر بن زید سے، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: ’’شلوار اس کے لئے (جائز) ہے جسے تہبند نہ ملے، اور موزے اس کے لئے جسے جوتے میسر نہ ہو،‘‘ یعنی احرام باندھنے والے کے لئے۔

...

6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

2557. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ...

جامع ترمذی:

كتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

2557.

انس ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے چوکی  (یا میز) پر کھانا کبھی نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی باریک آٹے کی روٹی کھائی یہاں تک کہ دنیا سے کوچ کرگئے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث سعید بن ابی عروبہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔