1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

830. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ الحُوَيْرِثِ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَذَاكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلاَةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ هُنَيَّةً، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ هُنَيَّةً، فَصَلَّى صَلاَةَ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ شَيْخِنَا هَذَا، قَالَ أَيُّوبُ: كَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ يَفْعَلُونَهُ كَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

830.

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے ایک مرتبہ اپنے شاگردوں سے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہﷺ کی نماز کے متعلق خبر نہ دوں؟ راوی حدیث کہتا ہے کہ  وہ کسی فرض نماز کا وقت نہ تھا۔ آپ کھڑے ہوئے اور قیام کیا، پھر رکوع کیا۔ بعد ازاں اللہ اکبر کہا۔ اس کے بعد اپنا سر اٹھایا تو کچھ دیر کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک اٹھائے رکھا۔ (اس طرح) انھوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی سی نماز پڑھی۔ (راوی حدیث) حضرت ایوب کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا کام کرتے تھے جو ہم نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، چنانچہ وہ تیسری اور چوتھی رکعت (کے در...

2 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العَمَلِ فِي الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1224. حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتْ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا قَالَ شُعْبَةُ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ الْخَوَارِجِ يَقُولُ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَثَمَانِيَ وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَهُ وَإِنِّي إِنْ كُن...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1224.

حضرت ازرق بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم علاقہ اہواز میں خارجیوں سے مصروف جنگ تھے۔ میں نہر کے کنارے پر تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنی سواری کی لگام ہاتھ میں تھامے نماز پڑھ رہا ہے۔ دریں اثنا اس کی سواری شوخی کرنے لگی تو وہ بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ شعبہ نے کہا: وہ شخص حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ تھے۔ انہیں دیکھ کر خارجیوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ! تو اس بوڑھے کو ایسا ایسا کر دے۔ جب شیخ محترم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ دراصل میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چھ سات یا آٹھ جنگوں میں شرکت کی ہے۔ میں نے لوگوں پر آپ کی طرف سے سہولت اور...

3 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العَمَلِ فِي الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1225. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى قَضَاهَا وَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الثَّانِيَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُهُ حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُ أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنْ الْجَنَّة...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1225.

حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے ایک طویل سورت پڑھی، پھر طویل رکوع کیا۔ اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا اور دوسری سورت پڑھنا شروع کر دی۔ پھر رکوع کیا اور اچھی طرح اسے ادا کیا۔ اس کے بعد سجدہ فرمایا۔ پھر آپ نے اسی طرح دوسری رکعت ادا کی، پھر فرمایا: ’’یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ان حالات سے دوچار ہو جاؤ تو نماز پڑھو تاآنکہ گرہن ختم ہو جائے۔ یقینا میں نے اس مقام پر کھڑے ہر چیز کو دیکھا ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا حتی کہ میں نے یہ...

4 ‌صحيح البخاري: کِتَابُ العَمَلِ فِي الصَّلاَةِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1230. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَ...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے کام کے بارے میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1230.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے کسی کام کے لیے بھیجا، چنانچہ میں گیا اور وہ کام کر کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپ کو (دوران نماز میں) سلام کیا، مگر آپ نے مجھے اس کا جواب نہ دیا جس سے میرا دل اتنا رنجیدہ ہوا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ مجھ سے اس لیے ناراض ہیں کہ میں دیر سے لوٹا ہوں، چنانچہ میں نے پھر سلام کیا تو آپ نے اس دفعہ بھی جواب نہ دیا۔ اب تو میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ رنج ہوا۔ میں نے پھر سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ’’چونکہ میں...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ القَدَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6670. حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنْ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ وَقَالَ شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ و...

صحیح بخاری:

کتاب: تقدیر کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6670.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں تو لمم کے مشابہ اس بات سے زیادہ کوئی اور بات نہیں جانتا جو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے بیان کی ہے: ”اللہ تعالٰی نے انسان کے زنا کا کوئی نہ کوئی حصہ لکھ دیا ہے جس سے لا محالہ اسے دو چار ہونا پڑے گا۔ آنکھ کا زنا نظر بازی ہے۔ زبان کا گناہ لوچ دار گفتگو کرنا ہے۔ اور دل کا زنا خواہشات اور شہوات ہیں، پھر شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے اور اسے جھٹلا دیتی ہے۔“ شبابہ نے کہا: ہم سے ورقاء نے بیان کیا: ابن طاؤس سے انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے اس حدیث کو بیان کیا۔

6 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ

صحیح

570. حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

570.

مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا: انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک  جھاڑی۔ انہوں نے  ’’ایک ہی چلو سے‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے  اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے (پیچھے کو) لائے اور پیچھےسے (آگے کو) لائے‘‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے: ’’انہوں نے سر کے اگلے حصے سے (مسح) شروع  کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے، پھر ان کو واپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا، اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔‘‘

...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ

صحیح

570. حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

570.

مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا: انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک  جھاڑی۔ انہوں نے  ’’ایک ہی چلو سے‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے  اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے (پیچھے کو) لائے اور پیچھےسے (آگے کو) لائے‘‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے: ’’انہوں نے سر کے اگلے حصے سے (مسح) شروع  کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے، پھر ان کو واپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا، اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔‘‘

...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ

صحیح

570. حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

()

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

570.

مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا: انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک  جھاڑی۔ انہوں نے  ’’ایک ہی چلو سے‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے  اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے (پیچھے کو) لائے اور پیچھےسے (آگے کو) لائے‘‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے: ’’انہوں نے سر کے اگلے حصے سے (مسح) شروع  کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے، پھر ان کو واپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا، اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔‘‘

...

10 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

حسن

391. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ مَرَّ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ ضَفِرَتَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ مُغْضَبًا فَقَالَ أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَ...

جامع ترمذی: كتاب: نماز کے احکام ومسائل ()

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

391.

ابو رافع ؓ سے روایت ہے کہ وہ حسن بن علی ؓ کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی گدی پر جوڑا باندھ رکھا تھا، ابو رافع ؓ نے اسے کھول دیا، حسن ؓ نے ان کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا: اپنی نماز پر توجہ دو اور غصہ نہ کرو کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’یہ شیطان کا حصہ ہے‘‘۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابو رافع ؓ کی حدیث حسن ہے۔
۲- اس باب میں ام سلمہ اور عبداللہ بن عباس‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔
۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ ان لوگوں نے اس بات کو مکروہ کہا کہ نماز پڑھے اور وہ اپنے بالوں کا جوڑا ...