2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2086. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى عَبْدًا حَجَّامًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَثَمَنِ الدَّمِ وَنَهَى عَنْ الْوَاشِمَةِ وَالْمَوْشُومَةِ وَآكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ...

صحیح بخاری:

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2086.

حضرت عون بن ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے والد گرامی کو دیکھا انھوں نے ایک غلام خریدا جو پچھنے لگاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا: نبی ﷺ نے کتے اور خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا، نیز گود نے اور گدوانے، سودلینے اور دینے سے بھی منع فرمایا: علاوہ ازیں تصویرکشی کرنے والے پر آپ نے لعنت فرمائی ہے۔

...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2592. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً وَلَمْ تَسْتَأْذِنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ، قَالَتْ: أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي، قَالَ: «أَوَفَعَلْتِ؟»، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمَا إِنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ»، وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ: عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، إِنَّ مَيْمُونَةَ أَعْتَق...

صحیح بخاری:

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2592.

حضرت میمونہ بنت حارث  ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کردیا جس کی بابت انھوں نے نبی کریم ﷺ سے اجازت نہیں لی تھی۔ جب ان کی باری کے دن آپ تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کردیا ہے؟آپ نے فرمایا: ’’ کیا واقعی تم آزاد کرچکی ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: جی ہاں!آپ نے فرمایا: ’’اگر تم وہ لونڈی اپنے ننھیال کو دیتیں تو تمھیں زیادہ ثواب ہوتا۔‘‘ بکر بن مضر نے عمروسے، انھوں نے بکیر سے، انھوں نے کریب سے بیان کیا کہ حضرت میمونہ  ؓ نے (لونڈی) آزاد کی۔

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2599. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ، فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: «خَبَأْنَا هَذَا لَكَ»، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «رَضِيَ مَخْرَمَةُ»...

صحیح بخاری:

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2599.

حضرت مسور بن مخرمہ  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کچھ قبائیں تقسیم کیں لیکن حضرت مخرمہ  ؓ  کو آپ نے کوئی قبانہ دی جس پر حضرت مخرمہ  ؓ نے کہا: بیٹے!تم رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے ہمراہ چلو۔ میں ان کے ہمراہ چلا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: اندر جاؤ اور آپ ﷺ کو میرے پاس بلا لاؤ۔ مسور  ؓ کہتے ہیں: میں آپ ﷺ کو بلا لایا۔ جب آپ باہر تشریف لائے تو ان قباؤں میں سے ایک قبا آپ کے پاس تھی، آپ نے فرمایا: ’’ہم نے یہ قباتیرے لیے چھپا رکھی تھی۔‘‘ حضرت مسور کا بیان ہے کہ مخرمہ  ؓ اسے دیکھ کر خوش ہوگئے۔

...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3033. قَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، فَحُدِّثَ بِهِ فِي نَخْلٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَابْنُ صَيَّادٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا صَافِ هَذَا مُحَمَّدٌ، فَوَثَبَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَس...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3033.

حضرت عبداللہ بن عمر  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ابن صیاد کے حالات معلوم کرنے کے لیے روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ حضرت ابی بن کعب  ؓ  بھی تھے۔ آپ کو اطلاع ملی کہ ابن صیاد ایک نخلستان میں ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ اس نخلستان میں داخل ہوئے تو آپ کھجوروں کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے وہاں پہنچے جبکہ ابن صیاد ایک چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس کے اندر ہی آواز کررہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ کر کہا: اے صاف!یہ محمد ہیں، چنانچہ ابن صیاد اچھل کر اٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر یہ (اس کی ماں) اسے چھوڑے رکھتی تو کئی ایک معاملات...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5792. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ القُرَظِيِّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسَةٌ، وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، فَسَمِعَ خَالِد...

صحیح بخاری:

کتاب: لباس کے بیان میں

()

١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5792.

نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رفاعہ قرظی کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ میں آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی وہاں موجود تھے اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں رفاعہ کی بیوی تھی۔ اس نے مجھے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کر دیا ہے۔ میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر ؓ سے نکاح کیا۔ اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتی ہوں کہ اس کے پاس اس پھندے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اور اس نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا۔ حضرت خالد بن سعید ؓ دروازے کے پاس کھڑے اس کی باتیں سن رہے تھے اور انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئ...